تجدید دین
Urdu book, p. 19
By Maulana Wahiduddin Khan
ترکْتُ فیکُم امرين لن تضلوا ما میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ رہا ہوں۔ تمسكتم بهما، كتاب الله وسنّة جب تک تم ان کو پکڑے رہو گے گمراہ نہ ہوگے، رسوله (موطا امام مالک) خدا کی کتاب اور اس کے رسول کی سنّت۔ مگر بعد کے دور میں، جیسا کہ خود پیغمبر اسلام نے پیشین گوئی فرمادی تھی، اس وراثت نبوی پر اضافے شروع ہو گئے۔ حتی کہ نوبت یہاں تک پہنچی کہ اسلام کی فہرست میں بھی نہایت معصومانہ طور پر وہ ساری چیزیں شامل کردی گئیں جنھوں نے دوسرے مذاہب کو بگاڑ ڈالا تھا۔ تاہم دونوں مثالوں میں ایک زبردست نوعی فرق ہے۔ دیگر مذاہب میں فقہ و تصوف یا علم کلام کے اضافے ان کے اصل آسمانی متن کا حصہ بن گئے، یہاں تک کہ اب یہ معلوم کرنا ہی ناممکن ہوگیا کہ ان کی’’کتاب مقدس‘‘کا کون سا جزء وہ ہے جو خدا نے ان کے رسول پر اتارا تھا اور کون سا وہ ہے جو بعد کے لوگوں نے اضافہ کر کے اس میں شامل کر دیا۔ اس کے برعکس اسلام، ہر قسم کے اضافوں کا شکار ہونے کے باوجود، اصل خدائی متن (قرآن) کو آج بھی مکمل طور پر محفوظ کئے ہوئے ہے۔ اور کسی بھی شخص کے لئے ممکن ہے وہ انسانی اضافوں کو الگ کر کے اصل خدائی دین کو در یافت کر سکے۔ جبیر بن نفیر نے عوف بن مالک اشجعی کے واسطہ سے نقل کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک روز ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ آپؐ نے آسمان کی طرف نظر کی اور فرمایا۔ وہ وقت آنے والا ہے جب کہ علم اٹھا لیا جائے گا۔ انصار میں سے ایک شخص نے کہا جس کا نام زیاد بن لبید تھا، اے خدا کے رسول، کیا علم ہم سے اٹھا لیا جائے گا۔ حالانکہ ہمارے درمیان خدا کی کتاب ہے اور ہم اپنے بچوں اور عورتوں کو اس کی تعلیم دے رہے ہیں۔ بنی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ میں تم کو مدینہ کا سمجھ دار آدمی جانتا تھا۔ یہود و نصاریٰ کیا تو رات و انجیل نہیں پڑھتے۔ پھر بھی ان کی باتوں پر ان کا عمل نہیں ہے۔ جبیر بن نفیر کی ملاقات شداد بن اوس سے ہوئی۔ انھوں نے ان کو یہ حدیث سنائی۔ انھوں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader