تجدید دین
Urdu book, p. 20
By Maulana Wahiduddin Khan
نے کہا عوف نے سچ کہا۔ پھر شداد نے کہا۔ جانتے ہو، علم کا اٹھ جانا کیا ہے ۔ انھوں نے کہا نہیں۔ شداد نے کہا، اس کے برتن کا چلا جانا (ذهب اوعيته) اس کے بعد شداد نے کہا: هل تدري اى العلم يرفع، قال قلت لا کیا تم جانتے ہو، کون سا علم اٹھا لیا جائے گا۔ ادری۔ قال الخشوع حتى لا يرى خاشعًا انھوں نے کہا نہیں، فرمایا خشوع اٹھا لیا جائے (ابن عبد البر ، جامع بيان العلم وفضله، جز اول ، صفحه 153) گا۔ یہاں تک کہ کوئی خاشع دکھائی نہ دے گا۔ جس گروہ کے پاس خدا کی کتاب ہو، اس پر جب دینی زوال آتا ہے تو ایسا نہیں ہوتا کہ دین داری کی صورتیں مٹ جاتی یا اس کاچر چا باقی نہیں رہتا۔ ایسا تاریخ میں کبھی نہیں ہوا۔ ان کا زوال دراصل یہ ہے کہ دین ان کے یہاں قساوت کی سطح پر باقی ہو، خشوع کی سطح پر وہ ختم ہو جائے (الحديد : 16) خشوع والی دین داری قلب میں اتری ہوئی ہوتی ہے۔ جب کہ قساوت والی دین داری صرف اعضاء و جوارح کو چھوتی ہے ، وہ شعور کا حصہ نہیں ہوتی ، وہ آدمی کے اندرونی وجود میں آگ نہیں لگاتی۔ حامل کتاب قوم میں یہ زوال اس وقت آتا ہے جب کہ خدا کے دین کو ڈفن‘ بنا دیا گیا ہو۔ فن نام ہے کسی حقیقت کو ناپ تول کی زبان میں متعین کرنے کا۔ اب چونکہ اندرونی حقیقت ناپ تول کی گرفت میں نہیں آتی، وہ صرف بعض ظاہری پہلوؤں کو بیان کر سکتی ہے، اس لئے جب کسی قوم کے اندر اس قسم کے فنون ترقی کرتے ہیں تو ظاہری بحثوں والے دین کے ماہرین تو ان کے یہاں خوب پیدا ہوتے ہیں۔ مگر ایسے لوگ ناپید ہوجاتے ہیں جو کیفیت والے دین سے آشنا ہوں ۔ عبادت جو دل کی گلاوٹ کا نام ہے، فقہی ناپ تول کے ایک ظاہری عمل کا نام رہ جاتی ہے، روحانیت جو خدا اور آخرت کی سطح پر جینے کا نام ہے، اس کے مقامات عملیاتی ورزشوں سے طے ہونے لگتے ہیں۔ دعوت دین جو دراصل بندوں کے ساتھ خیر خواہی کا اظہار ہے، وہ تقریر اور تحریر، مناظرہ اور احتجاج حتی کہ ہڑبونگ اور توڑ پھوڑ کی صورت اختیار کر لیتی ہے، وغیرہ۔ کتاب الہی کا کوئی حامل گروہ جب قساوت کی سطح پر آجائے تو اس کو دوبارہ خشوع کی سطح پر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader