Urdu book · تجدید دین

فقہ

Urdu book, p. 22

By Maulana Wahiduddin Khan

فقہ بعد کے زمانہ میں جب احادیث کو باقاعدہ جمع کیا گیا تو معلوم ہوا کہ صحابہ کی روایتوں میں بعض امور میں اتفاق ہے اور بعض امور میں اختلاف۔ مثلاً پانچ وقتہ نمازوں کی تعداد اور رکعات کے بارہ میں تمام صحابہ کا بیان ایک تھا۔ مگر اس معاملہ میں اختلاف تھا کہ آپ نے آمین آہستہ سے کہی یا بلند آواز سے۔ اب اہل علم کے درمیان دو گروہ ہو گئے ۔ ایک محدثین کا، جس کا کہنا تھا کہ جن امور میں صحابہ کی روایتیں مختلف ہیں وہ جزئی امور ہیں اور جزئی امور میں توسع مطلوب ہے۔ دوسری طرف فقہاء تھے جو اساسی امور کے ساتھ جزئی امور میں بھی تو حد کے قائل تھے۔ چنانچہ انھوں نے ان اختلافی روایتوں پر زبردست بحثیں کی اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ فلاں روایت راجح ہے اور اس کے سوا جو روایت ہے وہ مرجوح ہے، وغیرہ۔ تا ہم چونکہ عملاً ذخیرہ حدیث میں ہر قسم کی روایتیں موجود تھیں، اس لئے ایک فقہ بنانے کی کوشش میں کئی فقہیں پیدا ہوگئیں۔ اس معاملہ میں امام شافعی کا یہ قول بہت بامعنی ہے کہ رأیی صواب يحتمل الخطاء ورأیی غیری خطاء يحتمل الصواب (میری رائے درست ہے، اس احتمال کے ساتھ کہ وہ غلط ہو ۔ اور دوسرے کی رائے غلط ہے، اس احتمال کے ساتھ وہ درست ہو) یعنی جس طرح میرے پاس اپنے حق میں روایت ہے، اسی طرح دوسرے کے پاس بھی اپنے حق میں روایت ہے، اس لئے دونوں کے لیے خطا کا امکان بھی ہے اور صواب کا امکان بھی۔ اس عجیب وغریب تطبیق سے کہیں زیادہ بہتر ہے کہ یہ مان لیا جائے کہ جن امور میں روایتوں میں اختلاف ہے وہ دراصل توسع کی بنا پر ہے، وہ حقیقی اختلاف نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page