فقہ
Urdu book, p. 23
By Maulana Wahiduddin Khan
فقہ کے راستہ سے جو خرابی آئی، اس کی بابت شاہ ولی اللہ دہلوی نے لکھا ہے: اعلم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يكن الفقه في زمانه الشريف مدوناً، ولم يكن البحث في الاحكام يومئذ مثل البحث من هؤلاء الفقهاء حيث يبينون بأقصى جهد هم الاركان والشروط وآداب كل شئى ممتازاً عن الآخر بدليله، ويفرضون الصور ويتكلمون على تلك الصور المفروضة ويحددون ما يقبل الحد ويحصرون ما يقبل الحصر الى غير ذلك من صنائعهم، اما رسول الله صلى الله عليه وسلم فكان يتوضأ فيرى الصحابة وضوءه فيأخذون به من غيران يبين ان هذا ركن وذلك ادب، وكان يصلى فيرون صلاته فيصلون كما رأوه يصلى وج فرمق الناس حجه ففعلو كما فعل فهذا كان غالب حاله صلى الله عليه وسلم ولم يبين ان فروض الوضوء ستة او اربعة ولم يفرض انه يحتمل ان يتوضأ انسان بغير موالاة حتى يحكم عليه بالصحة او الفساد الا ماشاء الله، وقلما كانوا يسألونه عن هذه الاشياء عن ابن عباس رضى الله عنه قال: ما رأيت قوماً كانوا خيرا من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم ما سألوه الا عن ثلاث عشرة مسألة حتى قبض۔ (حجة الله البالغة، جلد اول، باب اسباب اختلاف الصحابة والتابعين في الفروع) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں فقہ کی تدوین نہیں ہوئی تھی اور نہ اس وقت مسائل میں ایسی بحثیں ہوتی تھیں جیسے یہ فقہا کرتے ہیں کہ نہایت کوشش سے ارکان و شروط اور ہر شے کے آداب ایک دوسرے سے جدا جامع دلائل بیان کرتے ہیں۔ اور صورتیں فرض کر کے ان مفروضہ صورتوں میں گفتگو کرتے ہیں اور جو حد کے قابل ہے اس کی حد بیان کرتے ہیں اور جو حصر کے قابل ہے اس کا حصر کرتے ہیں اور اسی قسم کے دوسرے امور کرتے ہیں۔ مگر رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں یہ تھا کہ آپ وضو کرتے تھے پس صحابہ آپؐ کے وضو کو دیکھتے اور خود بھی ویساہی کرتے بغیر اس کے کہ آپؐ یہ کہیں کہ یہ رکن ہے، وہ مستحب ہے اور آپؐ نماز پڑھتے پس صحابہ آپؐ کی نماز کو دیکھتے اور خود بھی اسی طرح نماز پڑھتے جس طرح آپؐ کو نماز پڑھتے دیکھا تھا۔ اور آپؐ نے حج کیا۔ پس لوگوں نے آپؐ کے حج کو دیکھا اور ویساہی کیا جیسا آپؐ نے کیا تھا۔ یہی رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کا غالب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader