Urdu book · تجدید دین

فقہ

Urdu book, p. 24

By Maulana Wahiduddin Khan

حال تھا آپؐ نے یہ بیان نہیں کیا کہ وضو میں فرائض چھ یا چار ہیں اور نہ آپؐ نے اس احتمال کو فرض کیا کہ انسان بغیر پے در پے کے وضو کرے تا کہ اس کے صحیح یا فاسد ہونے کا حکم کیا جائے۔ الا ماشاءاللہ۔ اور صحابہ اس قسم کی باتیں آپؐ سے بہت کم دریافت کرتے تھے۔ عبداللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ میں نے اصحاب رسول سے بہتر لوگ نہیں دیکھے۔ انھوں نے آپؐ سے صرف تیرہ مسئلے دریافت کے، یہاں تک کہ آپؐ کی وفات ہو گئی۔ فقہ کا لفظ، اپنے موجودہ اصطلاحی مفہوم میں، قرآن و حدیث میں استعمال نہیں ہوا ہے۔ بحیثیت فن اس کی تدوین کا آغاز قرن اول کے بعد ہوا جب کہ مسائل نے نئی وسعت اختیار کر لی، اسلام پھیلتا جا رہا تھا، یہاں تک کہ وہ چین کی سرحدوں سے لے کر فرانس کی سرحدوں تک جا پہنچا بے شمار نئے لوگ اسلام میں داخل ہو گئے اور ان کی وجہ سے نئے نئے سوالات پیدا ہونے لگے ۔ اس وقت ان سوالات کا جواب دینے کا پہلا مرکز عراق بنا۔ عراقی فقہاء نے قیاس اور استخراج کے ذریعے نئے سوالات کے جوابات دینے شروع کئے ۔ اس وقت حدیثیں مدون نہ ہوئی تھیں، اس لئے کسی فقیہہ کے پاس سارا ذخیرہء حدیث اس طرح موجود نہ تھا جیسے وہ آج ہم کو اپنے کتب خانہ میں رکھا ہوا نظر آتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ابتدائی فقہاء کے یہاں کثرت سے اپنی سابق رایوں سے رجوع ملتا ہے، فقہ کی کتابیں اس قسم کے اندراجات سے بھری ہوئی ہیں: هذا رأى ابی حنیفة الاول، وانه رجع عنه هذا مذهب الشافعي القديم وهو في العراق وهذا مذهبه الجديد في مصر هذا احدی الروايات عن مالك (او عن احمد بن حنبل) وان هناك روايات اخرى۔ حدیث کی جمع و ترتیب کا کام جو نمایاں شکل میں دوسری صدی ہجری کے نصف ثانی میں شروع ہوا، اس کی بڑی وجہ وہ رد عمل تھا جوار باب حدیث کے درمیان عراقی فقہاء کے خلاف پیدا ہو گیا تھا۔ گویا حدیث کی تدوین اس تحریک کا ایک جز تھی کہ مسائل کی بنیاد ”رائے“ کے بجائے احادیث و آثار پر ہونی چاہئے۔ یہی وجہ ہے کہ ابتدائی دور کی حدیث کی کتابوں میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page