فقہ
Urdu book, p. 25
By Maulana Wahiduddin Khan
وہی حدیثیں جمع کی گئیں جن سے فقہی احکام معلوم ہوتے تھے۔ اس کی ایک مثال موطا امام مالک ہے۔ بعد کی کتب حدیث، جن میں ہر قسم کی حدیثیں جمع کی گئیں، ان میں بھی ابواب کی ترتیب فقہی طرز پر نظر آتی ہے۔ اسی کا اثر تھا کہ امام بخاری نے اپنی کتاب کی تالیف سے پہلے یہ نقشہ بنایا کہ ایک ضابطہ قانون میں کیا کیا ابواب ہونے چاہئیں اور اس کے مطابق پیشگی ابواب مقرر کئے ۔ چنانچہ صحیح بخاری میں بہت سے عنوانات کے تحت تو کئی کئی روایتیں ملتی ہیں۔ بعض عنوان کے تحت صرف قرآن کی ایک آیت درج ہے اور بعض عنوانات دونوں سے خالی ہیں۔ تاہم جہاں تک ’’فقہ‘‘ کا سوال ہے، حدیث کی جمع و ترتیب کے بعد بھی اس کی ضرورت باقی تھی۔ عبادت کے طریقے اگرچہ بنیادی طور پر تمام صحابہ کے یہاں ایک ہی تھے۔ مگر حدیث نے بتایا کہ اس کے ضمنی پہلوؤں میں مختلف صحابہ کے عمل میں بعض فرق پایا جاتا ہے۔ اب سوال تھا کہ کیا کیا جائے اور عبادت کا کون سا ڈھانچہ مقرر کیا جائے۔ یہاں لوگوں کی دو رائیں ہوگئیں۔ ایک طرف محدثین تھے دوسری طرف فقہاء۔ محدثین کی رائے یہ تھی کہ الصحابة كلهم عدول کے مطابق کسی بھی صحابی کی رائے پر عمل کیا جاسکتا ہے۔ اسامہ بن زید کہتے ہیں، میں نے قاسم بن محمد بن ابوبکر سے پوچھا، غیر جہری نماز میں امام کے پیچھے قرأت کیسی ہے۔ فرمایا: قرأت کرو تب بھی اصحاب رسول اللہ میں تمہارے لئے اسوہ ہے اور نہ کرو تب بھی اصحاب محمد میں اسوہ ہے (80) عمر بن عبدالعزیز کا قول یہ: ہر صحابی امام ہے اور ہر صحابی کی پیروی درست ہے (80) محمد بن عبدالرحمن صیرفی بیان کرتے ہیں کہ میں نے امام احمد بن حنبل سے پوچھا، اگر کسی مسئلہ میں صحابہ کا اختلاف ہو تو کیا تنقید و تمحیص کرنا چاہئے تا کہ جس کے ساتھ حق نظر آئے اس کی پیروی کی جائے۔ جواب دیا ’’نہیں‘‘ انھوں نے کہا پھر کیا کریں، کہا: ’’جس صحابی کے قول کو چاہو لے لو‘‘ (تقلید ایہم احبت (83) ائمہ حدیث کے فقہی مسلک کے بارے میں علماء کے درمیان جو اختلاف ہے، اس کی وجہ یہی ہے۔ کیونکہ معروف معنوں میں ان کا کوئی ایک فقہی مسلک ہی نہ تھا۔ (جامع بیان العلم، جزء ثانی)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader