Urdu book · تجدید دین

فقہ

Urdu book, p. 26

By Maulana Wahiduddin Khan

مگر فقہاء کی رائے اس سے مختلف تھی۔ ابو عمر کہتے ہیں کہ امام شافعی ، لیث بن سعد ، اوزاعی ، ابو ثور اور دیگر فقہاء کی رائے یہ ہے کہ جب ایک ہی مسئلہ میں دو متضاد قول ہوں تو دونوں حق نہیں ہو سکتے۔ لازمی طور پر ایک ہی صحیح ہو گا ، دوسرا غلط (مالحق الا واحد، 82)۔ ایسی صورت میں ضروری ہے کہ کتاب و سنت ، اجماع امت اور اصول مسلمہ پر قیاس کر کے ایک کو راجح اور دوسرے کو مرجوح قرار دیا جائے۔ اس بحث میں حق بلاشبہ محدثین کی طرف تھا۔ بعض امور ایسے ضرور ہیں جن میں فرق کا معاملہ حق اور ناحق کا معاملہ ہوتا ہے۔ مگر ہر فرق کی نوعیت یہی نہیں ہوتی ۔ مثال کے طور پر بعض روایات کے مطابق نبی صلے اللہ علیہ وسلم کا گمان تھا کہ بعض جانور (مثلاً چوہا، گوہ) یہود کی مسخ شدہ نسلوں کی اولاد ہیں (لعله من القرون التي مسخت، مسلم) مگر دوسری روایات کے مطابق آپ نے فرمایا کہ تمام جانور پہلے سے ہیں۔ کوئی جانور کسی مسخ شدہ قوم کی نسل سے نہیں (ان الله لم يلعن قوماً قط فيمسخهم فكان لهم نسل، ولكن هذا خلق كان، ابو داؤد) ظاہر ہے کہ ان دونوں میں سے کوئی ایک ہی بات صحیح ہو سکتی ہے۔ اس لئے ہم مجبور ہیں کہ ایک روایت کو ترک کر کے دوسری کو اختیار کریں۔ اسی طرح بعض روایات کے مطابق اولاد مشرکین کے بارے میں فرمایا کہ وہ اپنے آباء کے ساتھ جہنم میں ہوں گے (هم مع آباءهم، ابن کثیر) دوسری طرف ایسی بھی روایات ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ کوئی بچہ حالت طفلی میں مرجائے تو وہ جنت میں جائے گا (المولود في الجنة، احمد) طبرانی کی ایک روایات کے مطابق آپ سے اطفال مشرکین کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا وہ اہل جنت کے خادم ہوں گے (هم خدم اهل الجنة) ظاہر ہے کہ ایک لڑکا بیک وقت جنت اور دوزخ دونوں جگہ نہیں ہو سکتا۔ اس لئے ہمارا فرض ہو گا کہ دونوں قسم کی روایات کی چھان بین کر کے صحیح تر قول کو تلاش کریں۔ مگر جہاں تک عبادت کے طریقوں میں مذکورہ فرق کا تعلق ہے، وہ نہ صرف انتہائی ضمنی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page