Urdu book · تجدید دین

فقہ

Urdu book, p. 27

By Maulana Wahiduddin Khan

اور فروعی ہیں بلکہ ایک دائرہ سے تعلق رکھتے ہیں جہاں فرق کے معنی لازماً یہ نہیں کہ ایک صحیح ہے اور دوسرا غلط۔ اس معاملہ میں فرق اور تنوع اور توسع کو بتاتا ہے نہ کہ حق اور ناحق کو۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ایک ہی صحابی کو بسا اوقات مختلف عمل کرتے ہوئے پاتے ہیں۔ مثال کے طور پر امام مالک اور امام شافعی نے بروایت عروہ نقل کیا ہے کہ حضرت عمر فاروق نے منبر پر آیت سجدہ تلاوت کی اور اتر کر سجدہ کیا اور آپ کے ساتھ دوسروں نے بھی کیا۔ اگلے جمعہ کو دوبارہ آپ نے آیت سجدہ تلاوت کی اور سجدہ نہیں کیا۔ لوگوں نے قصد کیا کہ سجدہ کریں تو منع فرمایا اور کہا کہ اپنی جگہ بیٹھے رہو (ازالة الخفاء، مقصد دوم (169) حضرت عمر مسجد میں داخل ہوئے اور دورکعت نماز پڑھی اور امام شافعی یہ بھی روایت کرتے ہیں کہ اگلے دن آپ مسجد میں آئے اور ایک رکعت نماز پڑھ کر سلام پھیر دیا۔ کہا گیا، آپ نے ایک ہی رکعت نماز پڑھی۔ فرمایا، یہ نافلہ تھی۔ جو چاہے زیادہ پڑھے اور جو چاہے کم (178) اسی طرح حضرت عمر کے بارے میں روایت کیا گیا ہے کہ نماز میں آپ بسم اللہ الرحمن الرحیم عام طور پر با آواز بلند نہیں پڑتے تھے۔ مگر کبھی کبھی آپ نے بسم اللہ با آواز بلند بھی پڑھا (162) حضرت عبداللہ بن عباس کو معلوم تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض اوقات بارش کے موقع پر منادی کے ذریعہ اعلان کرایا تھا کہ الا صلوٰ في الرحال ۔ اس کے باوجود ان کے بارے میں روایات آتا ہے: قال لمؤذنه فی یوم مطیر یوم جمعة اذقلت اشهد ان محمدا رسول الله فلا تقل حي على الصلاة ۔ قل صلوا في بيوتكم فكان الناس استنكروا ذلك ، فقال فعله من هو خير مني (یعنی رسول الله صلی الله عليه وسلم ) وانی کرهت ان اخر جكم في الطين والدحض ۔ حضرت ابن عباس نے جمعہ کے روز بارش کے دن اپنے مؤذن سے کہا: جب تم اذان میں اشهد ان محمداً رسول الله کہو تو اس کے بعد حی علی الصلوة مت کہنا بلکہ یہ فقرہ کہنا: صلوا فی بیوتکم (اپنے گھروں میں نماز پڑھ لو) مؤذن نے جب اس طرح اذان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page