Urdu book · تجدید دین

فقہ

Urdu book, p. 28

By Maulana Wahiduddin Khan

دی تو لوگوں کو عجیب معلوم ہوا۔ ابن عباس نے فرمایا: یہ اس ہستی نے کیا ہے جو مجھ سے بہت بہتر تھا۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ انھوں نے کہا: مجھے پسند نہیں ہوا کہ تم کو کیچڑ اور پھسلن میں گھر سے نکالوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے اصحاب کی زندگی کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کی عبادت، اپنے بنیادی ڈھانچہ کے اعتبار سے، ایک مقرر عمل ہونے کے باوجود اپنی ساری تفصیلات میں ایک مخصوص عمل کی یکساں تکرار کا نام نہ تھی، جیسا کہ آج ایک شخص کو اپنے مسلک کی مدون فقہ میں نظر آتا ہے۔ بلاشبہہ اس کی ایک متعین شکل تھی۔ مگر مختلف وجوہ سے اس میں بار بار فرق بھی پیدا ہو جاتا تھا۔ فرق کی ایک وجہ وہ ہے جو کسی اتفاقی سبب سے پیدا ہوئی۔ مثال کے طور پر طواف کعبہ کے وقت رمل (کندھوں کو ہلاتے ہوئے چلنا) اگرچہ بعد کے فقہاء کے نزدیک سنت ہے مگر عبداللہ بن عباس کا قول ہے کہ آپ نے اسکو وقتی مصلحت کی بنا پر اختیار کیا تھا: انما فعله النبی صلی اللہ علیہ وسلم علی سبيل الاتفاق لعارض وهو قول المشركين حطبهم حمى يثرب، وليس بسنة (حجة الله البالغة) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو محض اتفاقی طور پر ایک امر عارض کی وجہ سے کیا تھا۔ اور وہ یہ کہ مشرکین مکہ نے کہا تھا کہ مسلمانوں کو مدینہ کے بخار نے کمزور کر دیا ہے۔ ورنہ طواف میں رمل کرنا مستقل سنت نہیں ہے۔ اسی طرح ایک فرق وہ ہے جو کیفیت عبادت کے وفور سے پیدا ہوتا ہے۔ ترمذی، ابو داؤد، نسائی نے روایت کیا ہے کہ رفاعہ ابن رافعؐ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی۔ درمیان میں انھیں چھینک آگئی تو ان کی زبان سے بآواز بلند نکلا: الحمد للہ حمداً کثیراً طیباً مبارکاً فيه كما يحب ربنا ويرضى۔ آپ نے سلام پھیرنے کے بعد پوچھا: نماز میں کون بولا تھا (من المتكلم فى الصلاة) کسی نے جواب نہ دیا۔ آخر تیسری بار

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page