فقہ
Urdu book, p. 29
By Maulana Wahiduddin Khan
پوچھنے پر رفادہ نے کہا کہ آنا یا رسول اللہ (میں اے خدا کے رسول) آپؐ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، اس کلمہ کو لینے کے لئے تیس سے زیادہ فرشتے دوڑ پڑے تھے۔ (مشکوة، مالا یجوز فی الصلوة و ما یباح، 91) اسی طرح فرق کی ایک وجہ یہ ہوئی کہ اسلام میں اصل اہمیت حقیقت عبادت کی ہے نہ کہ شکل عبادت کی۔ اس لئے عبادت کی ادائیگی کے دوران اگر اس کی شکل میں معمولی فرق ہو گیا تو آپؐ نے اس کو نظر انداز کیا اور عبادت کی اصل حقیقت پر زور دیا: عن اسامة بن شريك قال خرجت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم حاجاً فكان الناس ياتونه فمن قائل يا رسول الله ! سعيت قبل ان اطوف او اخرت شيئا او قدمت سيئاً ، فكان يقول لا حرج الا رجل افترض عرض مسلم وهو ظالم فذلك الذى حرج وهلك (مشكوة كتاب المناسک ) اسامہ بن شریک کہتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے لئے نکلا، پس لوگ آپؐ کے پاس آتے۔ کوئی کہتا، یا رسول اللہ میں نے طواف سے پہلے سعی کر لیا، کوئی کہتا میں نے فلاں چیز پہلے کر لی، میں نے فلاں چیز بعد میں کی، آپؐ ان کو جواب دیتے، اس میں کوئی حرج نہیں۔ حرج کی اور ہلاک کرنے والی بات تو یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے مسلمان بھائی کی عزت پر حملہ کرے۔ قرآن میں نماز کی ادائیگی پر بے حد زور دیا گیا ہے۔ مگر نماز کی متعین صورت نہیں بتائی گئی ہے۔ حدیث سے نماز کی شکل معلوم ہوتی ہے۔ مگر اسی کے ساتھ حدیث یہ بھی بتاتی ہے کہ نماز کی ضمنی شکلوں میں تنوع اور توسع ہے۔ یہ کوئی ‘‘کمی’’ کی بات نہیں ہے جس کی تلافی کے لئے ہمیں ایک نیا فن ایجاد کرنے کی ضرورت ہو۔ یہ دراصل اس بات کا ثبوت ہے کہ نماز ایک زندہ عمل ہے۔ اور زندہ عمل کبھی مشینی یکسانیت کا پابند نہیں ہوتا۔ فقہ نے بالکل غیر ضروری طور پر یہ کوشش

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader