فقہ
Urdu book, p. 30
By Maulana Wahiduddin Khan
کی کہ اس فطری توسع اور تنوع کو ختم کر کے عبادت کا یکساں نظام بنائے۔ اس مصنوعی تدبیر نے نمازیوں کو نماز کے حقیقی فائدہ سے محروم کر دیا۔ وہ نماز کو ایک قسم کا عملیاتی ضمیمہ سمجھنے لگے۔ نہ کہ ایک ربانی سر چشمہ جو زندگی اور حرارت کو خوراک لینے کے لئے تلقین کیا گیا ہو۔ تاہم اگر فروق عبادت میں ترجیح ڈھونڈھنا اور یکسانیت پیدا کرنا ضروری ہو، جب بھی اس کا وہ طریقہ کسی طرح صحیح نہ تھا جو فقہاء نے اختیار کیا۔ انھوں نے یہ کیا کہ بطور خود اپنے اپنے مدارس فکر قائم کیے اور ہر ایک ذاتی طور پر ترجیح تلاش کرنے میں لگ گیا۔ اب چونکہ بطور واقعہ عبادات میں تنوع پایا جا رہا تھا، کلی یکسانیت کی تلاش مختلف طبائع کو ایک ہی نتیجہ پر نہیں پہنچاسکتی تھی۔ کسی نے ایک طریقے کو ترجیح دی کسی نے دوسرے طریقہ کو۔ اس طرح ایک ڈھانچہ بنانے کی کوشش میں کئی ڈھانچے وجود میں آگئے۔ مسیب ابن رافع تابعی کہتے ہیں کہ اگلے زمانہ میں دستور تھا کہ ایسا کوئی معاملہ پیش آتا جس کا حکم کتاب و سنت میں نہ ملتا تو ایسے معاملہ کو صوفی الامراء ( امراء کا میدان) کہتے تھے۔ حکام کو اطلاع دی جاتی۔ وہ علماء کو جمع کرتے اور ان کے متفقہ فیصلہ پر عمل کیا جاتا ( جامع بیان العلم جزء ثانی (144) یہ طریقہ ایسا ہے جس میں اختلاف نہیں ہوتا۔ حکومت کا زور انتشار و اختلاف کو ختم کرنے کا ضامن بن جاتا ہے۔ صدر اول میں قرآن کی تدوین کے سلسلہ میں اسی پر عمل کیا گیا۔ یہ کام اگر حکومت کی سر پرستی میں انجام نہ پاتا اور لوگ اپنے اپنے طور پر صحیفہ الہی کو مرتب کرتے تو شدید اختلافات کا اندیشہ تھا۔ اسی طرح فقہ میں اگر بالفرض یکساں ڈھانچہ بنانا ضروری ہو تو اس کا طریقہ یہی تھا کہ یہ کام حکومت کی ماتحتی میں واحد ادارہ کے تحت انجام پاتا۔ اس کی بعض مثالیں بھی موجود ہیں۔ مثلاً تکبیرات جنازہ کی تعداد پر صحابہ کے درمیان اختلاف ہوا تو حضرت عمرؓ نے سب کو چار تکبیروں پر جمع کر دیا۔ (85) عبداللہ بن مقفع نے خلیفہ منصور عباسی کو ترغیب دی تھی کہ وہ ایک متفقہ قانون مقرر کر کے ریاست کی طرف سے جاری کر دے ( رسالة الصحابہ)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader