فقہ
Urdu book, p. 31
By Maulana Wahiduddin Khan
فقہ اپنے پہلے مرحلہ میں مختلف روایات کے درمیان ترجیح تلاش کرنے کا نام تھی مگر سوالات بڑھ رہے تھے۔ لوگوں کو محسوس ہوا کہ جمع شدہ آثار واحادیث میں تمام سوالات کا جواب نہیں ہے۔ اب انھوں نے معلوم احکام کی بنیاد پر مزید استخراج کا طریقہ اختیار کیا۔ اس طرح فقہ کا دوسرا مرحلہ شروع ہوا۔ اور وہ دور ترجیح سے گزر کر دور تخریج میں داخل ہو گئی۔ شاہ ولی اللہ لکھتے ہیں: فلما مهدوا الفقه على هذه القواعد فلم تكن مسألة من المسائل التى تكلم فيها من قبلهم والتى وقعت في زمانهم الا وجدوا فيها حديثا ----- ثم انشأ الله تعالى قرنا آخر --- فوقع تدوين الحديث والفقه والمسائل من حاجتهم بموقع من وجه آخر وذلك انه لم يكن عندهم من الاحاديث والآثار ما يقدرون به على استنباط الفقه على الاصول التى اختارها اهل الحديث ---- فمهدوا الفقه على قاعدة التخريج (حجة اللہ البالغہ، جلد اول، 53-348) جب علماء نے فقہ کو ان قواعد پر مرتب کیا تو ان مسائل میں سے جن میں قدماء نے کلام کیا تھا اور وہ جو ان کے زمانہ میں واقع ہوئے تھے، کوئی مسئلہ ایسا نہ تھا جس کے متعلق کوئی نہ کوئی حدیث انھوں نے نہ پائی ہو۔ اس کے بعد اللہ نے ایک دوسرے زمانہ کی پیدائش کی۔ پس حدیث، فقہ اور مسائل کو دوسرے طرز پر مدون کرنے کی ضرورت واقع ہوئی اور یہ اس واسطے کے ان کے پاس اتنی احادیث اور آثار نہ تھے جن سے ان اصولوں کے موافق جن کو ارباب حدیث نے پسند کیا ہے، استنباط فقہ پر قادر ہوتے۔ چنانچہ انھوں نے تخریج کے قاعدہ پر فقہ کی ترتیب دی۔ تخریج کے قاعدہ پر فقہ کی تدوین، معاملات اور قانونی مسائل کی حد تک صحیح تھی۔ کیونکہ قانونی اور معاملاتی امور میں ہمیشہ نئے نئے سوالات پیدا ہوتے ہیں اور ان میں قیاس واجتہاد

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader