فقہ
Urdu book, p. 32
By Maulana Wahiduddin Khan
کے بغیر چارہ نہیں ۔ مگر عباداتی امور تک اس کی توسیع بلاشبہ ایک اجتہادی غلطی تھی جس نے عبادت کو ایک فن بنا دیا۔ آپ نے فرمایا تھا کہ میں سیدھے سادے آسان دین کو لے کر بھیجا گیا ہوں ۔ (بعثت بالحنيفية السمحة) مگر عباداتی امور میں نئے نئے فقہی مسائل ایجاد کرنے کا یہ نتیجہ ہوا کہ دین ایک ایسا پیچیدہ فن بن گیا جس کو فن فقہ کا متخصص ہی جان سکتا ہو۔ جس طرح فنون میں موشگافیاں کی جاتی ہیں اور نئی نئی باریکیاں پیدا کر کے قانون وضع کیے جاتے ہیں ، اس طرح عبادات میں باریکیوں کی تلاش شروع ہوگئی : ومنها ان اقبل اكثرهم على التعمقـات فى كل فن ... ومنهم من كثر القيل والقال فى اصول الفقه .... فأستقصى واجاب و تقصی وعرف وقسم ۔ (حجة اللہ البالغۃ، جلد اول، 359) اس میں سے یہ ہے کہ اکثر لوگ ہر فن کی باریک بینی کی طرف متوجہ ہوگئے ۔ بعض نے اصول فقہ کے متعلق بڑی قیل وقال کی ۔ پس نہایت درجہ چھان بین کی ۔ ہر امر کی تعریف و تقسیم کی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عبادات میں ایسی بحثیں ہونے لگیں جن کا صحابہ کے زمانہ میں کوئی وجود نہ تھا۔ امام شافعی (204-150ھ) پہلی بار کوفہ پہنچے تو مسجد میں ایک نوجوان کی نماز انھیں ٹھیک دکھائی نہ دی۔ انھوں نے کہا: " نماز ٹھیک طرح پڑھا کرو تا کہ خدا تمھارے حسین چہرے کو عذاب دوزخ میں مبتلا نہ کرے" نو جوان نے کہا میں پندرہ برس سے اسی مسجد میں محمد بن حسن (189 ھ) اور ابو یوسف (182 ھ) کے سامنے نماز پڑھ رہا ہوں۔ ان اماموں نے کبھی کچھ نہیں کہا۔ اور تم میری نماز پر اعتراض کرتے ہو۔ دونوں امام اتفاق سے اس وقت مسجد کے باہر موجود تھے۔ نو جوان نے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader