Urdu book · تجدید دین

فقہ

Urdu book, p. 33

By Maulana Wahiduddin Khan

جا کر ان سے کہا’’ آپ لوگوں نے میری نماز میں کبھی کوئی خرابی دیکھی ہے‘‘ انھوں نے جواب دیا’’ خدایا کبھی نہیں‘‘ نوجوان نے کہا، مگر مسجد میں ایک شخص بیٹھا ہے جس نے میری نماز پر اعتراض کیا ہے۔ دونوں اماموں نے کہا، تم اس شخص کے پاس جاؤ اور سوال کرو کہ نماز میں تم کس طرح داخل ہوتے ہو۔ نوجوان مسجد میں واپس آیا اور امام شافعی سے کہا’’ اے وہ شخص جس نے میری نماز پر اعتراض کیا ہے، بتاؤ کہ تم نماز میں کس طرح داخل ہوتے ہو۔ (یا من عاب علی صلاتى بم تدخل فى الصلاة) امام شافعی نے جواب دیا: بفرضين وسنة (دو فرض اور ایک سنت کے ساتھ نماز میں داخل ہوتا ہوں) نوجوان نے یہ جواب امام محمد بن حسن اور امام ابو یوسف کو پہنچایا تو انھوں نے کہا’’ جواب ایسے آدمی کا ہے جس کی علم پر نظر ہے‘‘ اب انھوں نے لڑکے کو دوبارہ بھیجا کہ جاؤ پوچھو وہ دونوں فرض اور سنت کیا ہیں۔ اس نے آکر پوچھا تو امام شافعی نے کہا: پہلا فرض نیت ہے، دوسرا فرض تکبیر تحریمہ ہے۔ اور سنت دونوں ہاتھوں کا اٹھانا ہے (رحلة الامام الشافعی، المطبعتہ السلفیہ قاهره 1350ھ ، صفحات 13-14) یہی واقعہ اگر دو صحابی کے درمیان ہوتا تو کیا ان کا سوال و جواب بھی اسی قسم کا ہوتا۔ فضل بن موسیٰ کا بیان ہے کہ مشہور محدث اُمش (147ھ) بیمار پڑے اور امام ابوحنیفہ (150- 80ھ) ان کی عیادت کے لئے گئے۔ میں بھی ساتھ تھا۔ امام ابوحنیفہ نے اعمش سے کہا’’ ابو محمد ! یہ خیال نہ ہوتا کہ بار بار آنے سے آپ کو تکلیف ہوگی تو میں جلد جلد عیادت کو آتا‘‘ اعمش نے جواب دیا:’’ جب آپ اپنے گھر میں ہوتے ہیں، اس وقت بھی میرے اوپر بوجھ ہوتے ہیں، عیادت کا کیا ذکر‘‘ ۔ فضل کا بیان ہے کہ واپسی پر امام ابوحنیفہ نے مجھ سے کہا’’ اعمش کا کبھی نہ کوئی روزہ صحیح ہوا ہے نہ غسل جنابت‘‘۔ فضل کہتے ہیں کہ سحری اور غسل کے بارے میں امام اعمش کا مسلک امام ابوحنیفہ سے مختلف تھا (ابن عبدالبر، جامع بیان العلم وفضلہ، جز ء ثانی صفحہ 157) کیا کسی صحابی سے توقع کی جاسکتی ہے کہ محض فروعی مسائل میں فرق کی وجہ سے وہ کسی کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page