فقہ
Urdu book, p. 34
By Maulana Wahiduddin Khan
روزہ اور غسل کی صحت اور عدم صحت کے بارے میں اس قسم کا حکم لگاتا۔ اس قسم کے مباحث و مسائل کا نتیجہ یہ ہوا کہ فقہ اسلامی کے نام سے ایک ایسا فن وجود میں آگیا جس سے اصحاب رسول بھی نا واقف تھے۔ کس صحابی کو خبر تھی کہ وضو میں مثلاً ’’چار فرض ہیں 13 سنتیں ہیں اور 8 مستحبات‘‘۔ علم دین کے بارے میں فقہ کے ایجاد کردہ اس فنی معیار نے بعض اوقات بڑی ناپسندیدہ چیزیں پیدا کردیں۔ کہا جاتا ہے کہ امام ابو حنیفہ نے امام اوزاعی (157ھ) سے کہا تھا: لولا فضل الصحبة لقلت ان علقمة افقه من عبد الله بن عمر (حجتہ الله 327) اگر صحابی ہونے کی فضیلت عبداللہ بن عمر میں نہ ہوتی تو میں کہتا کہ علقمہ، عبداللہ بن عمر سے زیادہ فقیہ ہیں۔ امام ابو حنیفہ کے ذہن میں یہ بات اسی لئے آئی کہ ’’فقہ‘‘ ان کے زمانہ میں جس فن کا نام بن گیا تھا اس فن میں انھیں عبداللہ بن عمر صحابی علقمہ تابعی سے پیچھے نظر آتے تھے۔ بعض اوقات یہ ذہن اور بھی زیادہ ناپسندیدہ شکل میں ظاہر ہوا۔ ضحاک مشک کو مکروہ سمجھتے تھے۔ لوگوں نے کہا ’’مگر اصحاب محمد تو مشک کا استعمال کرتے تھے‘‘، ضحاک نے جواب دیا ’’ ہم اصحاب محمد سے زیادہ جانتے ہیں‘‘ (نحن اعلم منهم، جزء ثانی 155) صحابہ سوالات کا جواب دینے سے بچنے کی کوشش کرتے اور نئے سوالات کی حوصلہ شکنی کرتے تھے۔ اب ایسے لوگ پیدا ہو گئے جو پیا کی کے ساتھ نئے نئے سوالات کریدتے اور ان کا جواب حاصل کرنے کی کوشش کرتے۔ مثال کے طور پر: سئل الامام خجندی رحمه الله عن رجل شافعی المذهب ترك صلاة سَنَةً اوسنتين ثم انتقل الى مذهب ابی حنيفة كيف يجب عليه القضاء، ايقضيها على مذهب الشافعی اوعلى مذهب ابی حنيفة (حجتہ الله البالغه جلد اولء 378)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader