فقہ
Urdu book, p. 35
By Maulana Wahiduddin Khan
امام خجندی سے کسی نے پوچھا کہ ایک شخص شافعی المذہب نے ایک سال یا دو سال کی نماز ترک کردی۔ اس کے بعد اس نے ابو حنیفہ کا مذہب اختیار کر لیا تو اس پر کس طرح سے قضا واجب ہے، آیا امام شافعی کے مذہب کے موافق قضا نماز ادا کرے یا امام ابو حنیفہ کے مذہب کے موافق۔ اس قسم کی باتیں صحابہ کے زمانہ میں معدوم تھیں، حتی کہ کوئی شخص اگر کسی صحابی سے ایسا سوال کرتا تو وہ اس کا جواب دینے کے بجائے اس پر لعنت بھیجتا کہ کیا تم دین محمدی کو دین یہودیت بنانا چاہتے ہو۔ مگر بعد کو یہ حال ہوا کہ لوگ نہایت دلیری کے ساتھ اس قسم کے سوالات کرتے اور جواب دینے والے فجر کے ساتھ ان کا جواب دیتے۔ کیونکہ ’’فقہ‘‘ ان کے نزدیک سب سے بڑا علم تھا: وكان بعدهم قوم لا يكرهون المسائل ولا يهابون الفتيا ويقولون على الفقه بناء الدين فلا بد من اشاعته (حجة الله البالغه، 352) ان کے بعد ایسے لوگ ہوئے جو مسائل کو بیان کرنے میں کوئی برائی محسوس نہیں کرتے تھے اور فتویٰ دینے سے خوف نہیں کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ دین کی بنیاد ہی فقہ پر ہے، اس لئے اس کی اشاعت ضرور ہونی چاہیے۔ یہی وہ زمانہ ہے جب کہ اصحاب حدیث اور ارباب رائے (فقہاء) کے درمیان زبردست اختلاف پیدا ہوا۔ حضرت ابو ہریرہؓ کی روایت محدثین کے درمیان خوب پھیلی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ امت کچھ زمانہ تک کتاب اللہ اور کچھ زمانہ سنت رسول اللہ پر چلے گی۔ پھر رائے پر عمل شروع ہوگا اور اسی وقت سے گمراہی میں پڑ جائے گی۔ (جامع بیان العلم، جزء ثانی، 134) قاسم بن محمد بن ابو بکر نے فقہی خوض کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کہا: قال القاسم انكم تسألون عن اشياء ما كنا نسأل عنها وتنقرون عن اشیاء ما كنا ننقر عنها (حجة الله البالغه، 317)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader