Urdu book · تجدید دین

فقہ

Urdu book, p. 36

By Maulana Wahiduddin Khan

تم ایسی باتیں دریافت کرتے ہو جن کو ہم (صحابہ سے دریافت نہیں کرتے تھے اور ایسی باتوں کی تفتیش کرتے ہو جن کی ہم تفتیش نہیں کرتے تھے۔ فقہی خوض کے نتیجہ میں جب عبادت الہی کے ایسے ایسے احکام و مسائل وجود میں آئے جن سے اصحاب رسول اللہ بھی ناواقف تھے تو اہل نظر چیخ اٹھے۔ بقیہ بن الولید کا بیان ہے کہ امام اوزاعی (157ھ) نے مجھ سے کہا: ’’اے بقیہ! علم وہی ہے جو اصحاب محمدؐ سے پہنچا ہے۔ اور جو کچھ اصحاب محمدؐ سے نہیں پہنچاوہ علم ہی نہیں‘‘۔ (ثانی 29) سعید بن جبیر تابعی (95ھ) نے کہا ’’جو بات اصحاب بدر کو نہیں معلوم وہ دین بھی نہیں، ۔ (مالم يعرفه البدريون فليس من الدین 97) شعراء نے اس پر نظمیں لکھیں۔ ایک شاعر اپنی طویل نظم میں کہتا ہے: قد نقر الناس حتى احداثوا بدعا في الدين بالرأق لم تبعث به الرسل (98) لوگوں نے کھود کرید کی، یہاں تک کہ دین میں ایسی نئی چیزیں نکالیں جنہیں پیغمبر نہیں لائے تھے۔ عبداللہ بن مسلمہ قعنبی کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ امام مالک کے پاس گیا تو دیکھا کہ رو رہے ہیں۔ میں نے سلام کیا، انھوں نے جواب تو دیا مگر روتے رہے۔ میں نے کہا ابوعبداللہ! کیوں آپ اس قدر رورہے ہیں۔ فرمایا: ’’میرا معاملہ اب خدا کے ہاتھ میں ہے۔ مجھ سے بہت زیادتی ہوئی ۔ کاش اس معاملہ میں میرے لفظ لفظ پر ایک ایک کوڑا مجھے مارا جاتا اور میں نے اپنی رائے سے کچھ نہ کہاہوتا۔ اتنے زیادہ فتوے نہ دیئے ہوتے‘‘ (جز ء ثانی ، صفحہ 145) امام مالک کہتے ہیں اگل لوگ جن کو میں نے دیکھا ان کا یہ دستور نہ تھا کہ بے دھڑک کہہ دیں، یہ حال ہے، وہ حرام ہے۔ (ما كانوا يجترئون على ذلك وانما كانوا يقولون نكره هذا ونرى هذا حسنا جزء ثانی 146) عبداللہ بن مسلمہ قرشی سے روایت ہے کہ امام مالک نے کہا ’’ یہ معاملہ برابر استوار رہا۔ یہاں تک کہ ابو حنیفہ ظاہر ہوئے اور مسلمان میں رائے کو رواج دے گئے‘‘۔ خالد بن نزار نے امام مالک کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ’’ابو حنیفہ تلوار لے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page