Urdu book · تجدید دین

فقہ

Urdu book, p. 37

By Maulana Wahiduddin Khan

اس امت پر ٹوٹ پڑتے تو اتنا نقصان نہ پہنچا سکتے جتنا اپنی رائے وقیاس سے پہنچا گئے ہیں۔“ ابن عیینہ نے کہا’’ کوفہ کا معاملہ درست رہا، یہاں تک کہ ابو حنیفہ کا ظہور ہوا۔ جزء ثانی، 147 امام ابو یوسف (182ھ) نے جب عباسی سلطنت میں قانون کا عہدہ سنبھالا تو فقہ کے پھیلاؤ کے لئے ایک مادی محرک بھی پیدا ہو گیا: وكان اشهر اصحابه ذكراً ابويوسف رحمه الله فولى تضاء القضاة ايام هارون رشيد فكان سبباً لظهور مذهبه والقضاء به فى اقطار العراق وخراسان وماوراء النهر۔ (حجتہ اللہ البالغہ 334) امام ابو حنیفہ کے شاگردوں میں سب سے مشہور امام ابو یوسف ہیں۔ وہ ہارون رشید کے عہد میں قاضی القضاة مقرر کیئے گئے ۔ پس وہ امام ابو حنیفہ کے مذہب کے شہرت کا اور اطراف عراق ، خراسان اور ماوراء النہر میں معمول بہ ہونے کا سبب بن گئے۔ امام ابو یوسف کو اسلام میں سب سے پہلے’’ قاضی القضاة‘‘ کہا گیا۔ وہ تین عباسی خلفاء مہدی ، ہادی اور ہارون الرشید کے زمانہ میں قاضی کے منصب پر فائز رہے۔ اس زمانہ کے لحاظ سے ان کا عہدہ بیک وقت چیف جسٹس اور وزیر قانون دونوں کا تھا۔ چنانچہ پوری حکومت اسلامی میں فقہ، خاص طور پر فقہ حنفی کو خوب ترقی ہوئی۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ لوگ حکومت کے عہدوں کے لئے فقہ میں مہارت حاصل کرنے لگے۔ محمود ورّاق (845ھ) کی طویل نظم کے چند شعر یہ ہیں (جامع بیان العلم وفضله، جزء اول صفحه 166) ركبوا المراكب واغتـــــــدوا زمرا الى باب الخليفة صبح ہوئی اور سوار ہو کر خلیفہ کی ڈیوڑھی کی طرف دوڑے وصلوا البكور الى الرواح ليبلغوا الرتب الشريفة اونچے عہدوں کی طلب میں رات دن ایک کر دیتے ہیں ضاقت قبور القوم واتسعت قصورهم المنيفة

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page