فقہ
Urdu book, p. 38
By Maulana Wahiduddin Khan
ان کی قبریں تنگ ہو چکی ہیں مگر اونچے محل خوب وسیع ہیں متفقہ جمع الحدیث الى قياس ابي حنيفة متفقہ ہیں انھوں نے احادیث کو قیاس ابو حنیفہ کے مطابق کر لیا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ مذاہب فقہ کے ابتدائی بانیوں کے ذہن میں ہرگز وہ تفریقی شدت نہ تھی جو بعد کو وقوع میں آئی۔ مگر یہ بھی ایک واقعہ ہے کہ عبادتی فقہ کو مختلف مذاہب میں تقسیم کرنے کا کوئی دوسرا نتیجہ بھی نکل نہ سکتا تھا۔ ساری تاریخ بتاتی ہے کہ ما بعد الطبیعیاتی امور میں، دوسرے لفظوں میں وہ امور جن کی صداقت کو عقلی طور پر جانچا جا سکتا ہو، انسان بے حد حساس واقع ہوا ہے۔ اس قسم کے امور میں معمولی اختلاف بھی دو انسانی گروہوں کے درمیان ناقابل عبور دیوار کھڑی کرنے کے لئے کافی ہے۔ مثال کے طور پر قصاص کے بارے میں امام شافعی نے سورہ حج کی آیت 60 سے استدلال کیا ہے کہ کسی شخص سے قصاص اسی خاص ڈھنگ پر لیا جائے گا جس ڈھنگ پر اس نے ظلم کیا ہو مثلاً کسی نے اگر ایک آدمی کو پانی میں ڈبا کر مارا ہے تو اس کو بھی ڈبا کر ہی مارا جائے گا، کسی نے آگ میں جلا کر مارا ہے تو اس کو بھی جلا کر مارا جائے گا۔ مگر حنفیہ اس کے قائل نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ قتل خواہ کسی طریقہ سے کیا گیا ہو، قاتل سے قصاص ایک ہی معروف طریقہ پر لیا جائے گا۔ قانون کے ماہرین اور علماء کے درمیان قانون کی تعبیر میں اس قسم کے اختلافات ہمیشہ ہوتے ہیں۔ مگر یہ اختلاف فرقہ بندی اور باہمی تعصب پیدا نہیں کرتا۔ اس کے برعکس عبادتی امور میں اتنا سا اختلاف بھی ایک ہی جگہ عبادت گاہیں بنوا دیتا ہے کہ نماز با جماعت کے لئے تکبیر کہی جائے تو مقتدیوں کو شروع ہی میں صف بنا کر کھڑا ہو جانا چاہئے یا اس وقت جب مکبر قد قامت الصلوٰة کہے۔ اسی لئے کہا گیا ہے: الخلاف فی الدين ينتج من الخصومة اكثر مما ينتج الخلاف في السياسة یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ مسلمانوں میں باہمی اختلاف کی واحد سب سے بڑی وجہ وہ عبادتی اختلاف ہے جس کو الگ الگ فقہ کی شکل میں مرتب کیا گیا۔ حالانکہ یہ اختلاف جو حقیقتہً انتہائی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader