فقہ
Urdu book, p. 39
By Maulana Wahiduddin Khan
ضمنی تھا، باعتبارِ حقیقت کوئی اہمیت نہ رکھتا تھا۔ وہ چیز جس کو فقہاء’’ متعارض روایتوں‘‘ میں ترجیح یا افضلیت تلاش کرنا کہتے ہیں، عباداتی امور میں اکثر اوقات غیر ضروری ہوتا ہے۔ کیونکہ یہ تعارضِ حقیقتِ عبادت کی ضمنی شکلوں میں تنوع کی تصدیق کرتا ہے نہ کہ اختلاف کو بتاتا ہے جس کو ختم کرنے کے لئے کسی علمی مشقت کی ضرورت ہو۔ اسی کے ساتھ ایک نقصان اور بھی ہوا۔ ان جزئیات یا دوسرے لفظوں میں’’تکمیلی احکام‘‘ کی اہمیت ابتدائی فقہاء کے نزدیک اگرچہ اس سے زیادہ نہ تھی کہ عوام کو ایک بنا بنایا مکمل ڈھانچہ دے دیا جائے تا کہ وہ بہ آسانی ان عبادات کو ادا کر سکیں۔ مگر یہاں بھی انسان کی تاریخی کمزوری ان کے معصوم ارادوں پر غالب آگئی۔ لوگوں نے یہ سمجھا کہ عبادت ایک انتہائی مقررہ عمل کو یکسانیت کے ساتھ دہرانے کا نام ہے۔ اس طرح، اگر چہ اعتقادی طور پر نہیں مگر عملی طور پر، حقیقتِ عبادت کے بجائے شکلِ عبادت لوگوں کا مقصود بن گیا۔ موجودہ عباداتی فقہ نے، اس طرح، بیک وقت مسلمانوں کو دو تحفے دیئے ہیں۔ ایک اختلافِ دوسرے مذہبی جمود۔ اہلِ حدیث کا گروہ اسی فقہی خرابی کو ختم کرنے کے لئے وجود میں آیا تھا۔ مگر وہ خود ایک شدید تر قسم کا فقہی گروہ پیدا کرنے کا سبب بن گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے بھی وہی غلطی کی جو ان کے پیش روؤں نے کی تھی۔’’آمین‘‘، آہستہ کہی جائے یا بلند آواز سے، امام کے پیچھے فاتحہ پڑھی جائے یا نہ پڑھی جائے، اس قسم کے ضمنی فروغِ جو عباداتی افعال کے بارے میں روایات میں ملتے ہیں، ان میں سے ہر ایک کو تسلیم کرنے کے بجائے وہ دوبارہ اس کوشش میں لگ گئے کہ ایک کو راجح قرار دے کر بقیہ کو مرجوح ثابت کریں۔ اور اس طرح دوسروں کے بالمقابل خود اپنا ایک’’ صحیح تر‘‘ نظامِ عبادت مقرر کریں۔ اس قسم کی کوشش صرف ایک نیا فقہی فرقہ وجود میں لاسکتی تھی اور اس نے وہی انجام دیا۔ اس صورتِ حال کی اصلاح کی صورت یہ ہے کہ عباداتی فقہ کو معاملاتی فقہ سے الگ کر دیا جائے جیسا کہ وہ دوسری صدی ہجری سے پہلے تک الگ تھی۔ معاملاتی فقہ میں اجتہادی تفصیلات

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader