فقہ
Urdu book, p. 40
By Maulana Wahiduddin Khan
یا مزید تعینات نہ صرف جائز بلکہ ضروری ہیں۔ مگر عبادتی فقہ کو صرف انہی طریقوں کی جمع و ترتیب تک محدود رہنا چاہئے جو صحیح روایات میں موجود ہیں۔ یہاں نہ ترجیح پسندیدہ ہے نہ تخریج ۔ جہاں ایک سے زیادہ طریقے ملیں، وہاں ضروری حوالوں کے ساتھ تمام طریقوں کو درج کر دینا چاہئے، بجائے اس کے کہ ایک کو راجح اور دوسرے کو مرجوح ثابت کرنے کی کوشش کی جائے ۔ خلیفہ ہارون رشید نے ایک بار ارادہ کیا کہ تمام لوگوں کو حکم دے دیا جائے کہ وہ مسائل میں صرف امام مالک کی فقہی رایوں پر عمل کریں۔ امام موصوف نے خلیفہ کو روک دیا اور فرمایا کہ ایسا نہ کرو ۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب فروعات میں مختلف ہوئے ہیں (لا تفعل فان اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم اختلفوا فی الفروع، حجه الله ) فروعی اختلاف اگر صحابہ کے لئے اجتماعی عبادت گزاری میں مانع نہ تھا تو ہمارے لئے وہ کیوں مانع ہو جائے گا کہ ’’عوامی ضرورت‘‘ کے نام پر دین میں ایسے اضافے کریں جو خدا اور رسول کے دیئے ہوئے توسعات کا دروازہ صحابہ کا یہ حال تھا کہ وہ بنیان مرصوص (الصف) بنے ہوئے تھے ۔ اور جب اختلافات کو ختم کر کے یکساں عبادتی نظام بنایا گیا تو امت میں ایسا اختلاف پڑا کہ آج تک ختم نہ ہوا۔ دوسری انتہائی ضروری چیز مدارس دینیہ میں تعلیم کے موجودہ نہج کی تبدیلی ہے۔ اس برائی کو امت کے اندر مسلسل باقی رکھنے کا واحد مؤثر عامل یہی ادارہ ہے۔ ہمارے دار العلوم، موجودہ حالات میں، صرف اس بات کا ذریعہ بن گئے ہیں کہ اپنے مخصوص فقہی مسلک کو قرآن و سنت کے مطابق ثابت کر دکھائیں ۔ 1330 ھ میں رشید رضا مصری ہندوستان آئے تھے۔ اس سلسلہ میں وہ دار العلوم دیو بند بھی گئے ۔ وہاں ان کے خیر مقدم کے لئے ایک جلسہ ہوا۔ اس موقع پر موصوف نے دار العلوم کے ایک استاد سے پوچھا کہ یہاں حدیث کے درس کا طریقہ کیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ جب حدیث پڑھی جاتی ہے تو محدث پہلے اس کے علمی نکات کو بیان کرتا ہے۔ اگر بادی الراۓ میں حدیث امام ابو حنیفہ کے مسلک کے خلاف ہوتی ہے تو محدث حنفی مسلک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader