Urdu book · تجدید دین

فقہ

Urdu book, p. 41

By Maulana Wahiduddin Khan

سے اس کی مطابقت ثابت کرتا ہے۔ رشید رضا نے یہ سن کر کہا، کیا یہی تمام احادیث میں ہوتا ہے۔ کہا گیا ہاں ، انہیں یہ بات بہت عجیب معلوم ہوئی۔ مولانا محمد یوسف نبوری (1977 ھ ۔ 1908 ھ) کی روایت کے مطابق (نفحۃ العنبر ،صفحہ 71) انھوں نے کہا: هل الحديث حنفی ، و كيف يكمن ذلك وهل هذا الا عصبية مالها من سلطان کیا حدیث بھی حنفی ہے۔ ایسا کس طرح ہو سکتا ہے۔ یہ تو محض عصبیت ہے جس کے لئے کوئی دلیل نہیں۔ مولانا انور شاہ کشمیری اس زمانہ میں دارالعلوم میں حدیث کے استاد تھے۔ انھیں یہ خبر پہنچی تو انھوں نے اپنی خیر مقدمی تقریر میں اسی کو اپنا موضوع بنایا اور ”ثابت‘‘ کر دیا کہ تمام حدیثیں فقہ حنفی کے مطابق ہیں۔ تا ہم انور شاہ کشمیری (1934 ھ۔ 1875 ھ) کو آخر عمر میں اس طریق تعلیم کی خامی کا احساس ہو گیا تھا ۔ موصوف کے شاگرد مولانامحمد شفیع (1976-1897) ناقل ہیں کہ مولانا کشمیری نے ان سے کہا: ’’ہماری تمام کد و کاوش کا خلاصہ یہ رہا ہے کہ دوسرے مسلکوں پر حنفیت کی ترجیح قائم کریں مگر کیا حاصل ہے اس کا ۔ اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہم زیادہ سے زیادہ اپنے مسلک کو صواب محتمل الخطاء ثابت کریں اور دوسرے مسلک کو خطا محتمل الصواب کہیں ۔ ہم تمام تر تحقیق و کاوش کے بعد یہی کہہ سکتے ہیں کہ یہ صحیح ہے لیکن احتمال موجود ہے کہ خطا ہو۔ اور وہ خطا ہے اس احتمال کے ساتھ کہ وہ صواب ہو۔ قبر میں منکر نکیر یہ نہیں پوچھیں گے کہ رفع یدین حق تھا یا ترک رفع یدین حق تھا۔ آمین بالجهر حق تھی یا بالسر حق تھی۔ جس چیز کو نہ دنیا میں نکھرنا ہے نہ محشر میں ۔ اس کے پیچھے پڑ کر ہم نے اپنی عمر ضائع کر دی۔ اور جو صحیح اسلام کی دعوت تھی ، جس کی دعوت انبیاء کرام لے کر آئے تھے ۔ آج وہ دعوت تو نہیں دی جا رہی۔ ہم لگے ہوئے ہیں ، ان فرعی بحثوں میں‘‘ (وحدت امت، صفحہ 20)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page