فقہ
Urdu book, p. 42
By Maulana Wahiduddin Khan
ہماری عربی مدارس، خواہ وہ کسی مسلک کے تحت قائم ہوئے ہوں، ان میں شیخ الحدیث کا منصب اسی قسم کی فقہی پہلوانی کے لئے خاص ہو گیا ہے۔ یہاں ایسے لوگ پیدا ہوتے ہیں جو بظاہر عالم دین کی سند لے کر نکلتے ہیں مگر حقیقتًا وہ عالم اختلاف ہوتے ہیں۔ وہ علم دین کا کمال یہ سمجھتے ہیں کہ دوسرے فقہی مذاہب کے مقابلہ میں اپنی فقہ کو صحیح ثابت کر دکھائیں۔ وہ چھوٹے چھوٹے دینی فروغ کو لے کر ان کی بنیاد پر اکھاڑے قائم کرتے ہیں اور ساری امت کو ایسے جدال و نزاع میں الجھا دیتے ہیں جو کبھی ختم ہونے والا نہیں۔ مزید یہ کہ غیر اہم فقہی فروغ کو اہم ترین دینی مسئلہ بنا کر وہ عوام کے اندر یہ ذہن پیدا کرتے ہیں کہ عبادت اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ فلاں مخصوص اشکال کے بجائے فلاں مخصوص اشکال کے ساتھ اس کو دہرایا جائے۔ مدارس دینیہ میں جب تک اس قسم کی نسل پیدا کرنے کا سلسلہ بند نہ کیا جائے عوام کی اصلاح نہیں ہو سکتی ہے۔ ان مدارس کے سلسلے میں کم سے کم جو بات کہی جاسکتی ہے وہ یہ کہ امت واحدہ کو انھوں نے امت متفرقہ میں تبدیل کر کے رکھ دیا ہے: الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا ۖ كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ (الروم: 32) جنھوں نے ٹکڑے ٹکڑے کر لیا اپنے دین کو اور ہو گئے فرقے فرقے ، ہر گروہ اسی میں خوش ہے جو اس کے پاس ہے۔ امام احمد بن حنبل کے بارہ میں روایت کیا گیا ہے کہ انھوں نے جزئیات احکام میں اختلاف کو وسعت قرار دیا تھا (انہ سمّی الخلاف سعة) یہی تعبدی مسائل میں اختلاف کا صحیح ترین شرعی حل ہے۔ یہ تمام اختلافات ظاہرِ عبادت کے جزئی آداب سے تعلق رکھتے ہیں، اور ان میں فرق و اختلاف ہونا عین فطری ہے۔ صحابہ کرام کا ان امور میں مختلف ہونا بتاتا ہے کہ یہ اختلافات اسی کے ساتھ شرعی بنیاد بھی رکھتے ہیں۔ ایسی حالت میں ان کو توسع پر محمول کرنا ہی صحیح مسلک ہے۔ اور یہی تمام محدثین کا مسلک تھا جیسا کہ اوپر بیان ہوا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader