تصوف
Urdu book, p. 43
By Maulana Wahiduddin Khan
تصوف تصوف ایک روحانی فن کی حیثیت سے، قرآن وحدیث میں اجنبی ہے۔ تصوف کے نام سے سلوک اور تزکیہ کے جس فن کو کتابوں میں مدون کیا گیا ہے یا شیوخ اپنے مریدوں کو جس کی تعلیم دیتے رہے ہیں۔م، وہ تمام تر ایک اضافہ ہے۔ اپنی موجودہ شکل میں وہ قرآن وسنت کے اندر موجود نہیں۔ پہلا شخص جس کو اسلام کی تاریخ میں''صوفی‘‘ کے لفظ سے پکارا گیا، وہ غالبا ابو ہاشم الصوفی (م 150 ھ) تھے۔ تاہم اس وقت تک صوفی کے معنی صرف یہ تھے کہ وہ شخص جو زہد اور عبادت میں غلو کرے۔ چوں کہ یہ لوگ اچھے لباس کو چھوڑ کر صوف (اون) کے معمولی کپڑے اپنے جسم پر لپیٹ لیتے تھے، اس لئے انہیں صوفی کہا جانے لگا۔ اس کے بعد اس کے قواعد اور اصطلاحات بننے لگے۔ یہاں تک کہ تیسری صدی ہجری میں پہنچ کر تصوف نے اسلامی روحانیات کے ایک با قاعدہ فن کی شکل اختیار کرلی۔ اشراقی فلسفہ، رہبانیت اور ویدانت میں اس کے لئے کافی مواد تھا۔ اس طرح مختلف بیرونی عناصر کی مدد سے ایک ایسی چیز وجود میں آئی جس پر اگرچہ اسلام کا لیبل لگا ہوا تھا، مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ ایک متوازی مذہب تھا جو اسلام کے اندر کے بالمقابل بنایا گیا ۔ تصوف کی ایک قسم وہ ہے جس کو'' باطینیت‘‘ کہا جاتا ہے۔ تیسری صدی ہجری میں، خاص طور پر ایران میں، کچھ لوگ ایسے پیدا ہوئے جن کا کہنا تھا: إِنَّ لِلْقُرْآنِ ظَاهِراً أَوْ بَاطِئُنَا ، وَالْمُرَادُ بَاطِنُه قرآن کا ایک ظاھر اور ایک باطن ہے، اور مقصود باطن ہی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader