تصوف
Urdu book, p. 44
By Maulana Wahiduddin Khan
اسی لئے وہ باطنیہ کے نام سے مشہور ہوئے ۔ علماء کے متفقہ فیصلہ کے مطابق یہ زنادقہ کا گروہ تھا جس نے اپنی اباحیت اور بے عملی کو چھپانے کے لئے یہ نظریہ گھڑ لیا تھا۔ وہ کہتے تھے کہ الصّوفى لا مذہب لہ ( صوفی کا کوئی مذہب نہیں ) اس فرقہ کے ایک شخص سے کہا گیا ، تم نماز نہیں پڑھتے ( الاتصلی ) اس نے جواب دیا : انتم مع اوراد کم ونحن مع وارداتنا تو اپنے اوراد میں ہواور ہم اپنی واردات میں ۔ ان کا عقیدہ تھا کہ شریعت کے مکلف عوام ہیں نہ کہ خواص (ان التکلیف خاص بالعوام ، ساقط بالخواص ) اسی طرح وہ لوگ جو حلول اور اتحاد کے قائل تھے اور کہتے تھے کہ سالک جب اپنے سلوک کی آخری منزل پر پہونچتا ہے تو خدا اس کے اندر اتر آتا ہے۔ اس وقت بندے اور خدا میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔ حتی کہ اس کے لئے یہ کہنا صحیح ہو جاتا ہے کہ ھو انا وانا ھو ( وہ میں ہے ، میں وہ ہوں ) اسی طرح وحدت الوجود کا نظریہ جس کے تحت ابو حسین الحلاج نے کہا تھا ما فى الجبّۃ الا اللہ چنانچہ علماء نے ان کے ارتداد کا فتویٰ دیا اور وہ مقتدر کی خلافت میں 301ھ میں قتل کردیئے گئے۔ اسی طرح تصوف کے وہ طریقے جو سماع اور رقص کو خدا تک پہونچنے کا ذریعہ بتاتے ہیں حتیٰ کہ ایسے لوگ بھی ہیں جو امرد پرستی کو قرب الہی کا سبب سمجھتے ہیں۔ اس کے جواز کے لئے انھوں نے ایک حدیث بھی گھڑ رکھی ہے اور وہ یہ ہے کہ میں نے اپنے رب کو جوان مرد کی صورت میں دیکھا ( رأیت ربی فی صورۃ شاب امرد ) تاہم تصوف کی ان شکلوں پر یہاں ہم کوئی گفتگو نہیں کریں گے۔ کیونکہ کہ علماء متفقہ طور پر ان کی ضلالت کا فتویٰ دے چکے ہیں ۔ ہماری گفتگو تمام تر تصوف کے ان طریقوں تک محدود ہوگی جن کو امت کے اندر قبول عام حاصل ہوا، اور جن کو اب تک بے شمار لوگ نجات کا سب سے قریبی ذریعہ سمجھے ہوئے ہیں۔ اس تصوف کی دو قسمیں ہیں ۔ ایک مسنون تعبدی طریقوں میں مقداری اضافہ ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader