Urdu book · تجدید دین

تصوف

Urdu book, p. 45

By Maulana Wahiduddin Khan

دوسرے، مسنون تعبدی طریقوں پر نوعی اضافہ ۔ پہلے طریقہ کے بارے میں ابو القاسم جنید بغدادی (297ھ) نے کہا ہے: مَذْھَبُنَا هٰذَا مُقَيَّدٌ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ ہمارا طریقہ کتاب وسنت کے ساتھ مقید ہے۔ ابتدائی دور کے صوفیاء (اگر انہیں یہ لقب دیا جاسکے) میں یہی پہلی قسم کا تصوف رائج تھا۔ ان لوگوں نے نماز، روزہ، تلاوت قرآن وغیرہ جو بذات خود مسنون طریق عبادت ہیں، ان کی مقدار میں وہ حد بندی باقی نہ رکھی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت تھی۔ مثلاً پانچ وقتہ نمازوں کے علاوہ آپ رات کے پچھلے پہر کی کچھ رکعتیں (اکثر گیارہ رکعتیں) ادا فرماتے تھے۔ ان بزرگوں نے ساری رات نماز پڑھنی شروع کردی۔ آپ فرض روزوں کے علاوہ مہینہ میں چند مزید روزے رکھ لیتے تھے۔ ان حضرات نے مسلسل روزے رکھنے شروع کر دیئے جس کو صوم وصال کہا جاتا ہے۔ آپ مخصوص اوقات میں قرآن کا کوئی حصہ پڑھ لیا کرتے تھے۔ انھوں نے ہر وقت بس قرآن ہی پڑھنا شروع کیا۔ حتیٰ کہ اگر امام نووی کا بیاں صحیح ہو تو ان میں ایسے لوگ بھی ہوئے جو ہر روز آٹھ بار پورا قرآن ختم کر لیتے تھے وغیرہ۔ عبادت کے مسنون طریقوں میں اس قسم کا اضافہ صراحتاً ممنوع قرار دیا گیا تھا۔ بخاری ومسلم نے حضرت انسؓ سے روایت کیا ہے: جاء ثلاثة رهط الى بيوت ازواج النبي صلى الله عليه وسلم يسألون عن عبادة النبي صلى الله عليه وسلم فلما أخبروا كأنهم تقالُّوها فقالوا ، واين نحن من رسول الله وقد غفر له ما تقدم من ذنبه وما تأخر ، فقال احدهم اما انا فاصلى الليل ابدا وقال آخر انا اصوم الدهر ولا افطر ، وقال آخر ، انا اعتزل النساء فلا اتزوج ابدا ۔ فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال : انتم الذين قلتم كذا وكذا ـ اما والله لانى لاخشاكم لله

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page