تصوف
Urdu book, p. 46
By Maulana Wahiduddin Khan
واتقاکم لہ، لکنی اصوم وافطر واصلی وارقد واتزوج النساء فمن رغب عن سنتی فلیس منی ۔ تین مسلمان ازواجِ رسولؐ کے گھروں پر آئے اور آپؐ کی عبادت کے بارے میں دریافت کیا۔ جب انہیں بتایا گیا تو انہیں آپؐ کی عبادت بہت کم معلوم ہوئی۔ انہوں نے کہا، رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمارا کیا مقابلہ۔ آپؐ کے تو تمام اگلے پچھلے گناہ معاف کر دیئے گئے ہیں۔ پھر ان میں ایک نے کہا: میں تو رات بھر نماز میں پڑھوں گا۔ دوسرے نے کہا: میں مسلسل روزے رکھوں گا۔ تیسرے نے کہا: میں تجرد کی زندگی اختیار کروں گا اور عورتوں سے کوئی تعلق نہ رکھوں گا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ آپؐ نے فرمایا: کیا تم ہی وہ لوگ ہو جنھوں نے ایسا اور ایسا کہا ہے۔ سنو، خدا کی قسم میں تم سب میں زیادہ خدا سے ڈرنے والا اور متقی ہوں ۔ مگر میں روزہ بھی رکھتا ہوں اور نہیں بھی رکھتا۔ نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں۔ اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں ۔ یہ میری سنت ہے اور جو میری سنت کو چھوڑے وہ مجھ سے نہیں۔ ایک اور روایت اس طرح سے ہے: اخرج ابن جریر وعبدالرزاق وابن المنذر عن ابی قلابة قال : اراد ناس من اصحاب النبی صلی الله عليه وسلم ان يرفضوا الدنيا ويتركوا النساء ويترهبوا فقام رسول الله صلی الله عليه وسلم فغلظ فيهم المقالة ، ثم قال : انما هلك من كان قبلكم بالتشديد۔ شددوا علی انفسهم فشدد الله عليهم ۔ اولئك بقاياهم فى الديار والصوامع ۔ اعبدوا الله ولا تشركوا به شيئاً وحجوا واعتمروا واستقيموا يستقم بكم۔ آپؐ کے اصحاب میں سے کچھ لوگوں نے ارادہ کیا کہ دنیا کو ترک کر دیں اور عورتوں سے قطع تعلق کر لیں اور راہب بن جائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپؐ وعظ کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader