تصوف
Urdu book, p. 47
By Maulana Wahiduddin Khan
لئے کھڑے ہوئے اور ان کے متعلق سخت گفتگو فرمائی۔ آپؐ نے کہا تم سے پہلے جو لوگ ہلاک ہوئے، وہ اسی قسم کی شدت کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔ انھوں نے اپنے اوپر شدت کی تو اللہ نے بھی ان پر شدت کی۔ انھیں کی بقایا ہے جو صوامع میں ہے۔ تم لوگ اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو۔ حج کرو، عمرہ کرو اور سیدھے رہو، تمہارے ساتھ سیدھا معاملہ کیا جائے گا۔ ان’’عباد وزہاد‘‘کی مدافعت میں جو لٹریچر تیار ہوا: اس کا خلاصہ ملانا عبدالحی لکھنوی (1304–1264ھ) کی کتاب اقامة الحجة على ان الاکثار فی التعبد لیس ببدعة (حلب۔1966) میں دیکھا جاسکتا ہے۔ تاہم اس میں کوئی شک نہیں کہ ان تمام دلائل کی قدر و قیمت صرف اس وقت تک ہے جب کہ متعلقہ’’اکابر‘‘کے عمل کا لازماً صحیح ہونا بطور پیشگی مفروضہ کے مان لیا جائے۔ اگر اس مفروضہ کو ذہن سے نکال دیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ان توجیہات کی عملی اعتبار سے کوئی حقیقت نہیں۔ مثال کے طور پر کہا جاتا ہے کہ پیغمبر اسلام نے اپنی امت پر شفقت کی وجہ سے کم عبادتیں کیں، کیوں کہ آپ اگر زیادہ عبادت کرتے تو ساری امت پر ویساہی کرنا فرض ہو جاتا۔ (کان يترك كثرة العبا دات شفقة على امته ور حمة على اتباعه لئلا يتحرجوا با تباعهم في ذلك) اس استدلال کی کمزوری اس واقعہ سے ثابت ہوتی ہے کہ عبادات میں تشدد کے بجائے آپؐ کا اعتدال اگر امت پر شفقت کی وجہ سے تھا تو آپؐ نے دوسرے معاملہ میں لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ أَنْ لَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ (شعراء:3) کا اسوہ اپنی امت کے لئے کیوں چھوڑا۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنے مومن بندوں سے یہ مطلوب ہی نہیں کہ وہ اس قسم کے کرشمے دکھائیں کہ مغرب کے وضو سے فجر کی نماز پچاس سال تک پڑھتے رہیں اور روزانہ آٹھ آٹھ بار قرآن’’ختم‘‘کر ڈالیں۔ اپنے جسم کو غیر ضروری مشقت میں ڈالنا یا رات دن کچھ اشکالِ عبادت کو دہراتے رہنا وہ چیز نہیں جو اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہو۔ اس کو جو چیز مطلوب ہے وہ اندرونی طور پر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader