Urdu book · تجدید دین

تصوف

Urdu book, p. 48

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ ہے کہ اس کے بندے اس کی محبت اور خوف سے سرشار ہوں ۔ اور خارجی طور پر یہ کہ ایک طرف اپنے عمل کو زندگی کی تمام سرگرمیوں میں خدائی تعلیم کے مطابق بنائیں ، اور دوسری طرف دوسرے بندگان خدا کو اللہ کے دائرہ میں لانے کی کوشش کریں۔ بعد کے بزرگوں کے بارے میں کثرت عبادت کے افسانے ، اگر بالفرض صحیح ہوں جب بھی یہ وہ دین نہیں جو پیغمبر عربی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم خدا کی طرف سے لائے اور جو قرآن وسنت کی شکل میں اب بھی ہمارے پاس پوری طرح محفوظ ہے۔ اس قسم کے کمالات جو بعد کے لوگوں سے منقول ہیں ، بلاشبہ ان کا ہدی محمدی سے کوئی تعلق نہیں۔ مگر دور زوال کی علامتوں سے ایک علامت یہ بھی ہے کہ اپنے رجال پر تنقید کی جرات ختم ہو جاتی ہے۔ چنانچہ اس قسم کے اعمال پر نکیر کے بجائے ان کی توجیہہ بلکہ تحسین شروع ہو گئی۔ حتی کہ رفتہ رفتہ وہ اس قدر مقدس ہو گئے کہ اب کسی کے لئے یہ سوچنا بھی محال ہو گیا کہ ان میں کوئی نقص ہے۔ حافظ ذہبی (748 ھ) اور ابن تیمیہ (728 ھ) کا تشدد صوفیاء کے بارے میں مشہور ہے۔ مگر ان کا بھی یہ حال ہے کہ کسی کی مدح وستائش کے ذیل میں کثرت عبادت کے قصے نقد و جرح کے بغیر نقل کر دیتے ہیں۔ حالانکہ یہ قصے با اعتبار واقعہ بھی اکثر ناقابل اعتبار ہوتے ہیں اور دین کی حقیقت سے تو ان کا کوئی تعلق ہی نہیں۔ یہی حال ہماری اکثر کتابوں کا ہے۔ تصوف کی دوسری شکل ، تعبدی امور میں نوعی اضافہ کا معاملہ پہلی شکل سے بھی زیادہ شدید ہے۔ پہلا اگر قرآن کے الفاظ میں اعتداء (اعراف 55) ہے تو دوسرا ابتداع (حدید 27)۔ اور معلوم ہے کہ دین میں احداث اور ابتداع، خواہ وہ اچھی نیت ہی سے کیوں نہ ہو، قطعاً مردود ہے۔ بخاری ومسلم نے بنی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کیا ہے: من احدث في امرنا هذا ماليس منه فهو رد جو ہمارے دین میں کوئی نئی چیز لائے وہ رد ہے۔ امام زاده جو غی سمرقندی (573ھ) نے اپنی کتاب شرعۃ الاسلام میں صحابہ کے بارے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page