Urdu book · تجدید دین

تصوف

Urdu book, p. 49

By Maulana Wahiduddin Khan

میں لکھا ہے : قد كانت الصحابة ينكرون اشد الانكار على من احدث او ابتداع رسماً لم يتعهدوه في عهد النبوة قلّ ذلك او كثر صغر ذلك او كبر ـ صفحہ:9 صحابہ اس شخص کے خلاف شدید ترین انکار کرتے تھے جو کوئی ایسا طریقہ نکالے جس کو انھوں نے نبوت کے زمانہ میں دیکھا ہو خواہ وہ کم ہو یا زیادہ چھوٹا ہو یا بڑا۔ صحابہ کا یہ شدید رویہ عبادات کے بارے میں تھا، معاملات کے بارے میں نہ تھا۔ معاملات انسانی کا بہت گہرا تعلق دنیا کے عملی حالات سے ہے جو ہمیشہ یکساں نہیں رہتے۔ اس لئے اس میں صراحتاً نئے فیصلوں کی اجازت دی گئی ہے جس کو قرآن میں استنباط (نساء : 83) اور حدیث میں اجتہاد ( معاذ بن جبل ) کہا گیا ہے۔ مگر عبادت کا تعلق ازلی وابدی ہستی کے ساتھ انسان کے رویہ سے ہے اس لئے اس میں کسی تبدیلی اور اضافہ کا سوال نہیں۔ تدریجی حکمت یا معذوری کی بنا پر کسی کے ساتھ رعایت تو کی جاسکتی ہے مگر اپنی طرف سے قیاسی اضافہ نہیں کیا جاسکتا۔ عبادات کے معاملہ میں صرف اتباع ہے۔ عبداللہ ابن مسعود نے فرمایا : اتبعوا لا تبتدعوا (اتباع کرو، نئی چیز نہ نکالو) معاملات کے باب میں مسلسل اجتہاد کیا گیا۔ مگر کسی صحابی نے نکیر نہ کی۔ مگر عبادات میں ذرا سا نیا پن بھی ان کے لئے ناقابل برداشت ہوتا تھا۔ عبداللہ بن مغفل کے صاحبزادہ کہتے ہیں : سمعنی ابی و انا فی الصلوة اقول : بسم الله الرحمن الرحيم ، فقال لى : اى بنى محدث ایاک والحدث (ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، بیہقی) میرے باپ نے مجھ کو نماز میں کہتے ہوئے سنا ’ ’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘ تو مجھ سے کہا، میری بیٹے ! یہ نئی چیز ہے اور تم کو چاہیئے کہ نئی چیز سے بچو۔' معاملات انسانی کی نوعیت چونکہ دنیوی حالات کی تبدیلی سے بدلتی رہتی ہے، اس لئے اس ا۔ وقتی کیفیت کے تحت حمد یا دعا کا کلمہ زبان سے نکل پڑے تو جائز ہے مگر اس کو مسئلہ بنانا جائز نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page