تصوف
Urdu book, p. 50
By Maulana Wahiduddin Khan
میں اجتہاد کی اجازت دی گئی تھی۔ مگر عبادات وروحیات کے پہلو سے جو کچھ مطلوب ہے اس میں کمی بیشی کا سوال نہیں۔ اس میں صرف اتباع ہے۔ ابن عبدالبر نے جامع بیان العلم وفضلہ میں سعید بن مسیب سے نقل کیا ہے کہ حضرت عمرؓ نے خطبہ دیا اور اس میں فرمایا: یا ایھا الناس انہ قد سنت لكم السنن وفرضت لكم الفرائض وترکتم علی الواضحة، الا ان تضلوا بالناس یمینا وشمالا (جزء ثانی 187) اے لوگو! تمہارے لئے طریقے جاری کر دیئے گئے اور تمہارے لئے فرائض مقرر کر دیئے گئے۔ اور تم ایک واضح امر پر چھوڑ دیئے گئے۔ خبردار لوگوں کے ساتھ دائیں یا بائیں نہ بھٹک جانا۔ نبوت کے بعد امت مسلمہ کے اندر جو فتنے پیدا ہوئے، ان کو شاہ ولی اللہ نے تیس تک شمار کیا ہے۔ دسواں فتنہ ان کے الفاظ میں یہ ہے ‘‘سنت ماثورہ میں جواور اووظائف آگئے ہیں۔ ان کے علاوہ اپنی طرف سے مزید اور اووظائف کا بہ نیت تقرب الی اللہ عزوجل یعنی ثواب پانے کی غرض سے اختراع کرنا اور امور مستحبہ کو مثل واجبات کے اپنے ذمہ لازم کر لینا اور لوگوں میں ان وظائف کے پھیلانے کی رغبت کا دلوں میں پیدا ہونا (ازالۃ الخفاء) شاہ صاحب نے اس سلسلے میں جو روایتیں نقل کی ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے: دارمی نے حکم بن مبارک سے روایت کی ہے وہ کہتے تھے ہمیں عمروبن یحییٰ نے خبردی، وہ کہتے تھے میں نے اپنے والد سے سنا۔ وہ اپنے والد سے نقل کرتے تھے، وہ کہتے تھے کہ ہم نماز فجر سے پہلے عبداللہ بن مسعود کے دروازہ پر جا کر بیٹھ رہتے تھے۔ جب وہ اپنے گھر سے نکلتے تو ہم ان کے ساتھ مسجد میں جاتے تھے۔ ایک روز ابن مسعود کے مکان پر بوقت معهود ابو موسیٰ اشعری آئے اور ہم سے پوچھا کہ کیا ابو عبدالرحمن (عبداللہ بن مسعودؓ) گھر سے نکلے۔ ہم نے جواب دیا کہ ابھی نہیں نکلے۔ یہ سن کر وہ ہمارے پاس بیٹھ گئے۔ یہاں تک کہ عبداللہ بن مسعودؓ گھر سے برآمد ہوئے، اور ہم لوگ ان کے ساتھ اٹھ کر چلے۔ پھر ان سے ابو موسیٰؓ نے کہا،

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader