تصوف
Urdu book, p. 51
By Maulana Wahiduddin Khan
اے ابو عبدالرحمن، میں نے ابھی مسجد میں ایک نئی بات دیکھی۔ مگر الحمد للہ میں نے اچھی بات دیکھی۔ عبد اللہ بن مسعودؓ نے پوچھا، تم نے کیا دیکھا۔ ابو موسیٰ نے کہا کہ اگر مسجد پہو نچنے تک آپ زندہ رہے تو آپ بھی دیکھ لیں گے۔ پھر کہا، میں نے مسجد میں لوگوں کو دیکھا کہ وہ جدا جدا حلقے کر کے بیٹھے ہیں اور نماز کا انتظار کر رہے ہیں۔ ہر حلقہ میں ایک ایک شخص ہے جس کے ہاتھ میں سنگریزے ہیں وہ کہتا ہے : سو مرتبہ اللہ اکبر کہو، سب لوگ سو بار اللہ اکبر کہتے ہیں اور ان سنگریزوں پر گنتے جاتے ہیں۔ پھر وہ کہتا ہے سو بار لا الہ الا اللہ کہو، سب لوگ سو بار لا الہ الا اللہ کہتے ہیں۔ پھر وہ کہتا ہے سو بار سبحان اللہ کہو، سب لوگ سو بار سبحان اللہ کہتے ہیں۔ یہ سن کر عبد اللہ بن مسعودؓ نے پوچھا کہ پھر تم نے ان سے کیا کہا، ابو موسیٰ نے جواب دیا، آپ کی رائے اور آپ کے حکم کے انتظار میں میں نے ان سے کچھ نہیں کہا۔ انھوں نے کہا، تم نے کیوں نہ ان کو حکم دیا کہ ان سنگریزوں پر تکبیر و تہلیل و تسبیح کے بجائے وہ لوگ اپنے گناہوں کو شمار کریں۔ اور تم نے ان سے اس بات کی ذمہ داری کیوں نہ لی کہ ان کی نیکیوں میں سے کچھ ضائع نہ ہوگا شمار کرنا بے کار ہے۔ یہ کہہ کر ابن مسعود چلے اور ہم سب ان کے ساتھ چلے یہاں تک کہ وہ ان حلقوں میں سے ایک حلقہ کے پاس پہو نچ کر ٹھہر گئے۔ اور ان لوگوں سے پوچھا کہ تم کیا کر رہے ہو ۔ انھوں نے جواب دیا، اے عبد الرحمن ! ہم ان سنگریزوں سے تکبیر اور تہلیل اور تسبیح کے کلمات شمار کرتے ہیں۔ ابن مسعود نے کہا، اس کے بجائے تم لوگ اپنے گناہوں کو شمار کرو اور میں ضامن ہوتا ہوں کہ تمہاری نیکیوں میں سے کوئی نیکی ضائع نہ ہوگی۔ اے امت محمد! تمہارا برا ہو ۔ تمہاری ہلاکت کتنی جلد آ گئی۔ ابھی تمہارے نبی کے اصحاب کثرت سے موجود ہیں ۔ تمہارے نبی کے کپڑے ابھی بوسیدہ نہیں ہوئے اور آپ کے برتن ابھی نہیں ٹوٹے ۔ مگر تم ابھی سے بدعتیں ایجاد کرنے لگے۔ قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یا تو تم ایک ایسے دین پر ہو جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین سے زیادہ راہ راست پر ہے یا تم گمراہی کے دروازے پر پہو نچ گئے ہواور وہ دروازہ کھلنے والا ہے۔ ان لوگوں نے جواب دیا، اے عبد الرحمن ! خدا کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader