تصوف
Urdu book, p. 52
By Maulana Wahiduddin Khan
قسم ، ہم اس فعل سے نیکی ہی کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ ابن مسعود نے کہا ، بہت سے نیکی کا ارادہ کرنے والے ایسے ہیں کہ انہیں نیکی نہیں ملتی۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا ہے کہ بہت سے لوگ قرآن پڑھیں گے مگر قرآن ان کے گلے سے تجاوز نہ کرے گا۔ خدا کی قسم میں نہیں جانتا شاید تم میں اکثر ایسے لوگ ہوں ( ازالۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفاء، مقصد اول ) یہ روایت جس کو دارمی کے علاوہ طبرانی نے اور ابو نعیم نے حلیۃ الاولیاء میں مختلف الفاظ کے ساتھ نقل کیا ہے، یہ بتانے کے لئے کافی ہے کہ عبادتی امور میں صحابہ کس قدر حساس تھے اور معمولی جدّت کو بھی انتہائی طور پر ناپسند کرتے تھے۔ کجا کہ یہ اضافے اتنے زیادہ ہو جائیں کہ وہ متوازی مذہب بن جائے اور باقاعدہ اس کے ماہرین اور معلمین پیدا ہونے لگیں۔ اور آج بد قسمتی سے امت مسلمہ کی صورت حال یہی ہے۔ وصفی زبان تصوف کا ابتدائی محرک یہ تھا کہ فقہ ظاہر کی طرح ایک '' فقہ باطن ‘‘ بنائی جائے اور اس کے قواعد وضع کیے جائیں۔ مگر یہ ایک کیفی حقیقت کو وصفی زبان (descriptive language) میں بیان کرنا تھا۔ فنی اصطلاحات کی زبان کسی شئی کے صرف خارجی پہلوؤں کا احاطہ کرسکتی ہے، اس لئے بندے اور خدا کے درمیان تعلق جیسے معاملہ کوفن کا موضوع بنانا دین میں ایک قسم کے عمل تفریق کو جگہ دینا تھا۔ یہ ایسا ہی تھا جیسے کیفیتِ محبت کے بیان کے لئے ریاضیاتی زبان کو استعمال کیا جائے۔ اس کوشش نے عبادت الہی کے کیفی پہلو کو اس کے خارجی مظاہر سے الگ کر دیا۔ ذکر نے ورد کی صورت اختیار کر لی اور کثرتِ ذکر کے معنی یہ ہو گئے کہ کچھ مخصوص الفاظ کو تسبیح کے دانوں پر تکرار دہرایا جاتا ہے۔ اسی طرح تدبر قرآن (محمد : 24) تلاوتِ قرآن بن گیا۔ کیونکہ متصوفانہ ذوق کے مطابق مقداری پیمانہ میں ناپنے کی چیز تلاوت ہے نہ کہ تدبر وتفکر، یہی وجہ ہے کہ متصوفانہ اذکار کی طویل فہرست میں ہم اللہ اور لا الہ الا اللہ جیسے الفاظ کا ذکر تو پاتے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader