تصوف
Urdu book, p. 53
By Maulana Wahiduddin Khan
ہیں مگر دوسری بہت سی چیزیں جن کے ذکر کو دین میں بے حد اہمیت دی گئی ہے، اس فہرست میں درج نہیں ۔ مثلاً آخرت (مدثر: 55) نعمت الہیٰ (مائدہ: 20) آلاء رب (الاعراف: 69) موت (اکثر وا ذكر هادم اللذات ) وغیرہ ۔ کیوں کہ اللہ اللہ کا ورد تو کیا جا سکتا ہے مگر آخرت آخرت، نعمت نعمت، آلاء آلاء، موت موت کا ورد ایک بے معنی بات ہے۔ جب تعلق مع اللہ ایک خارجی طور پر قابل بیان چیز بن گیا تو اس کے بعد بالکل فطری طور پر یہ ہوا کہ اس کے حصول کے خارجی طریقے وضع ہونے شروع ہو گئے ۔ محض قیاس کی بنیاد پر یہ فرض کر لیا گیا کہ انسان کے بدن میں چھ مقامات ہیں جہاں انوار و برکات بھرے ہوتے ہیں ۔ ان کو لطائف ستہ کا نام دیا گیا ۔ اول لطیفہ قلبی جس کی جگہ بائیں پستان کے نیچے ہے۔ دوسرا لطیفہ روحی جس کا مقام دائیں پستان کے اوپر ہے۔ تیسرا لطیفہ نفس جس کا مقام ناف کے نیچے ہے۔ چوتھا لطیفہ سریٰ جس کا مقام سینہ کے درمیان ہے ۔ پانچواں لطیفہ خفی جس کا مقام ابرو کے اوپر ہے ۔ چھٹا لطیفہ اخفیٰ جس کا مقام ام الدماغ ہے ۔ اس مفروضہ کی بنا پر عجیب عجیب قسم کے اشغال، ضربات اور مراقبے وضع کیے گئے جن کا مقصد یہ تھا کہ ان مقاماتِ انوار پر زور ڈال کر ان کو جاری کیا جائے تا کہ سارا جسم اللہ اللہ پکارنے لگے ۔ مثال کے طور پر ایک طریقہ یہ ہے کہ دونوں آنکھیں اور دونوں لب بند کر کے سانس کو ناف کے نیچے نکال کر قلب میں حبس کرے اور لاکو (تصور میں) ناف سے اٹھا کر گلے تک پہنچا کر الہٰ کو گلے سے لطیفہ روحی کے مقام تک لاکر الا اللہ کی ضرب خوب زور سے اس طرح دل پر لگائے کہ ضرب کا اثر تمام لطیفوں تک پہنچ جائے ۔ اس طرح کی بے شمار چیزیں حیرت انگیز جسارت کے ساتھ وضع کی گئیں اور ان کو دین کے عبادی نظام میں ”معاون ذریعہ“ کی حیثیت سے داخل کر دیا گیا۔ تا ہم معاون ذریعہ کا لفظ بھی محض رعایتی تھا۔ کیونکہ بعض ظاہری کرشموں کی وجہ سے عام طور پر یہ ذہن بن گیا کہ معروف دینی طریقوں کے مقابلہ میں یہ طریقے حصولِ مقصد کے لئے زیادہ مفید ہیں ایک مشہور بزرگ فرماتے ہیں کہ خدا تک پہنچنے کے تین طریقے ہیں جن میں سے ایک طریقہ صوم وصلوة اور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader