تصوف
Urdu book, p. 54
By Maulana Wahiduddin Khan
تلاوت قرآن وغیرہ کا ہے، مگر: رونندگان ایں راہ در زمان طویل بمقصود رسند اس راہ کے چلنے والے بہت لمبی مدت میں اپنی منزلِ مقصود کو پہنچتے ہیں۔ تصوف کے طریقہ کی حمایت کرتے ہوئے ایک اور بزرگ لکھتے ہیں: انها خير طريق واسرعها للبلوغ الى غاية تزكية النفس وتربيتها بين التصوف والحياة، (دمشق 1963، 33) نفس کی تربیت و تزکیہ کے مقصد کو حاصل کرنے کے لئے یہ زیادہ بہتر اور تیز تر طریقہ ہے۔ ہمارے بزرگوں کو یہ غلط فہمی صرف اس لئے ہوئی کہ انھوں نے کیفیتِ نفسی اور کیفیتِ عادی میں فرق نہیں کیا۔ رگ کیماس کو دبانا اور اعوجاج عنق اور پاس انناس جیسے عملیاتی طریقوں کی مدد سے کچھ مخصوص الفاظ (یا آوازوں) کو خاص طرح سے ادا کرنے کی مشق کرنا، یہ نتیجہ دکھا سکتا ہے کہ وہ الفاظ یا آوازیں انسان کے طبعی وظائف میں غیر شعوری طور پر شامل ہو جائیں۔ مگر اس لفظی ورزش کا اسلام سے کیا تعلق، اس قسم کی کوئی مشق کسی کے اندر یہ طبیعت پیدا کر دے کہ وہ اپنے دل کی دھڑکنوں یا سانس کے آنے جانے میں اللہ اللہ کی آواز سننے لگے تو یہ کسی بھی درجہ میں وہ چیز نہیں ہے جس کو قرآن میں ذکر کہا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ محض ایک واہمہ ہے۔ قلب اور تنفس تو در کنار کسی مشین کی ’’کھٹ کھٹ‘‘ کی آواز میں آواز ملا کر اگر آپ ’’حق حق‘‘ کہنے لگیں تو کچھ دیر کی مشق کے بعد آپ کو ایسا محسوس ہوگا گویا مشین سے کھٹ کھٹ کی نہیں حق حق کی آواز آ رہی ہے۔ مگر شدید ترین غلط فہمی ہوگی کہ اس قسم کے واہمہ کو ذکر سمجھ لیا جائے۔ ذکر تو ایک اعلیٰ ترین نفسیاتی کیفیت ہے جو آدمی کے شعور کا (نہ کہ عادت کا) حصہ بن کر اس کے پورے وجود میں شامل ہو جاتا ہے۔ ٹھیک اسی طرح جیسے کسی بچھڑے ہوئے محبوب کی یاد کسی کی ہستی میں سما جائے اور اس کو دائمی طور پر بے چین کر دے۔ دین میں اس اضافہ کا لازمی نتیجہ ایک اور شدید تر بدعت کا وجود میں آنا تھا۔ اور وہ ہے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader