Urdu book · تجدید دین

تصوف

Urdu book, p. 55

By Maulana Wahiduddin Khan

مرشد کامل‘‘ کا عقیدہ۔ جب اللہ سے تعلق قائم کرنے کے طریقے صرف وہ نہ رہے جو قرآن وسنت میں درج ہیں، بلکہ ایسے طریقے نسبتاً زیادہ زود اثر، دریافت ہو گئے جو کچھ خاص لوگوں ہی کو معلوم تھے (مثلاً کہا جاتا ہے ’’شغل بساط‘‘ بلا واسطہ طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے خواجہ معین الدین چشتی کو ملا تھا جس کے ذریعہ انھیں معراج باطنی حاصل ہوئی) تو دین نے بالکل فطری طور پر علم سفینہ کے بجائے علم سینہ کی حیثیت اختیار کر لی۔ اب ایسے لوگوں سے نسبت حاصل کرنا ضروری ہو گیا جو پر اسرار طور پر روحانی علوم کے مالک تھے اور اپنے مریدوں کو اس کی نسبت خاص منتقل کر سکتے تھے۔ اسی کے ساتھ خود شیوخ کو بھی یہ ضرورت تھی کہ وہ اپنے اندر ایسی تسخیری قوت پیدا کریں جس کے ذریعہ وہ عالم خیال میں اپنے قلب سے مرید کے قلب پر ضرب لگا سکیں اور اس کے دل کو انوار و برکات سے بھر دیں۔ یہ قوت محض نماز روزہ کے ذریعہ نہیں آسکتی تھی۔ یہ تقاضا انھیں زیادہ سے زیادہ عملیات کی طرف لے گیا۔ اب ایسے بزرگ پیدا ہونے لگے جو اس قسم کا کرشمہ دکھا سکتے تھے کہ ایک نظر سے آدمی کو تڑپا دیں اور ایک توجہ سے قلوب کو بدل ڈالیں۔ اس طرح عیسائی رہبانوں اور ہندو جوگیوں کا فن تسخیر اسلامی لباس اختیار کر کے دین محمدی میں داخل ہو گیا۔ یہاں پہنچ کر کہنوٹ (گروڈم) پوری طرح اسلام میں داخل ہو گیا۔ حالاں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ میری امت میں کہنوٹ کا کوئی وجود نہیں۔ قرآن میں اس کو خدا کے سوا اس کے بندوں کو رب بنانا قرار دیا گیا تھا۔ شیوخ کے تصوف کے بارے میں نہایت مبالغہ آمیز تصورات پیش کئے جانے لگے۔ مثلاً الشیخ فی قومہ کالنبی فی امتہ (شیخ اپنی قوم میں ایسا ہی ہے جیسے نبی اپنی امت میں) اور من اراد ان یجلس مع اللہ فلیجلس مع اھل التصوف (جو اللہ کے پاس بیٹھنا چاہتا ہے وہ صوفیاء کے پاس بیٹھے) شیوخ کے شعبدوں اور کرامات کی داستانیں اتنی کثرت سے پھیلائی گئیں کہ وہ زبان و ادب کا جزء بن گئیں ۔ بالکل بے اصل قسم کی موضوع کہانیوں کو لوگ اس طرح دہرانے اور یقین کرنے لگے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page