تصوف
Urdu book, p. 56
By Maulana Wahiduddin Khan
گو یا یہ بالکل واقعہ ہیں۔ بزرگوں کی مجالس و مواعظ کا بڑا حصہ اسی قسم کی محیر العقول داستانوں پر مشتمل رہنے لگا۔ حتی کہ وہ یہ بھی بھول گئے کہ اس قسم کی کہانیاں بیان کر کے غیر شعوری طور پر وہ لوگوں کو یہ تاثر دے رہے ہیں کہ ہمارے بزرگ صحابہ کرام سے بھی زیادہ بلند مرتبہ لوگ تھے۔ کیوں کہ صحابہ میں سے کسی کے بارے میں اس قسم کے چمتکار ثابت نہیں۔ صحابہ کے بعض خارق عادت واقعات جو صحیح روایات میں آتے ہیں، وہ ہرگز کرامت کے واقعات نہیں ہیں۔ ان کی حیثیت اہل ایمان کے اوپر اللہ تعالیٰ کی نصرت کی ہے۔ کرامت، بطور ایک شخصی صفت کے، قطعاً ایک غیر اسلامی تصور ہے۔ اسلام میں جو چیز ثابت ہے وہ صرف دعا اور اس کی مقبولیت کی صورت میں اللہ تعالیٰ کی نصرت ہے۔ یہ نصرت بلاشبہ صحابہ کرام کو حاصل ہوئی اور آج بھی مسلمانوں کو حاصل ہو سکتی ہے بشرطیکہ وہ صحابہ والے کام کو لے کر اٹھیں۔ صحابہ کی کرامتوں اور موجودہ زمانہ کے بزرگوں کی کرامتوں کا فرق اسی سے واضح ہے کہ صحابہ کی کرامتوں نے عرب وعجم سے باطل کا استیصال کر دیا تھا جب کہ ہمارے بزرگوں کا حال یہ ہے کہ کرامات کی مفروضہ دنیا میں تو جن وانس، نباتات و حیوانات سب کو وہ مسخر کئے ہوئے نظر آتے ہیں۔ مگر حقیقت کی دنیا میں ان کی بے بسی کا یہ حال ہے کہ ان کے چاروں طرف باطل طاقتیں اسلام اور ملت اسلام کو روند رہی ہے اور وہ ان کے دفعیہ کے لئے کچھ نہیں کر سکتے۔ بزرگ پرستی (دوسرے لفظوں میں بزرگی کی گڈی وجود میں آنے) کا فتنہ یہیں نہیں رہا۔ کرامات اور شعبدوں کی فرضی داستانیں جو تمام مجالس تصوف کا سب سے نمایاں جزء ہوتی ہیں۔ انھوں نے لوگوں کے ذہن کو اس قدر توہماتی بنا دیا کہ اب وہ اپنے بزرگوں کو عام انسانوں سے الگ ایک مستقل طبقہ فرض کرنے لگے جس طرح انبیاء و ملائکہ عام انسانوں سے الگ ایک طبقہ ہوتے ہیں۔ ان کو خدا کا مختار و مصطفےٰ فرض کر لیا گیا اور ان کی طرف ایسے ایسے فضائل منسوب کرنے لگے جو مضحکہ خیز حد تک بے معنی تھے۔ اسی میں سے ’’اولیاء اللہ‘‘ کا مروجۂ تصور ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اولیاء اللہ کی دو قسمیں ہیں۔ ایک اہل ارشاد، دوسرے اہل تکوین۔ اول الذکر خدا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader