Urdu book · تجدید دین

تصوف

Urdu book, p. 57

By Maulana Wahiduddin Khan

کے وہ چنے ہوئے لوگ ہیں جن کے سپرد مخلوق کی ہدایت ، قلوب کی اصلاح و تربیت اور اللہ کا قرب حاصل کرنے کے طریقوں کی تعلیم ہوتی ہے ۔ ان اولیاء میں اللہ میں جن کے سپرد مخلوق کی معاش کی اصلاح ، دنیا کا انتظام اور مصائب کا دفع کرنا ہوتا ہے ۔ یہ خدا کے اذن کے تحت اپنی باطنی قوت سے ان امور کی درستی کرتے رہتے ہیں ۔ ان میں جو سب سے اعلیٰ اور دوسروں کے اوپر حاکم ہوتا ہے ، اس کو قطب التکوین کہتے ہیں ۔ گویا اہل ارشاد انبیاء کے مماثل ہیں اور اہل تکوین فرشتوں کے مماثل جن کو مدبرات الامر کہا گیا ہے ـــ حیرت انگیز بات ہے کہ اتنا بڑا عقیدہ بے شمار لوگوں نے نہایت اخلاص کے ساتھ قبول کر لیا ، حالانکہ قرآن و حدیث میں اس کے لئے قطعاً کوئی سند موجود نہ تھی۔ تصوف کے ابتدائی موجدین خواہ کتنے ہی نیک نیت ہوں ، اس میں کوئی شک نہیں کہ تصوف اپنی اصل حقیقت اعتبار سے ٹھیک وہی چیز تھی جس کو قرآن میں ابتدراع (حدید ۷۲) کہا گیا ہے۔ کچھ بزرگوں نے سادہ طور پر یہ سوچا کہ دین کی اصل حقیقت (تعلق بالله) کو لوگوں کے اندر پیدا کرنے کے لئے کچھ ایسے اضافی طریقے وضع کریں جن کو اسلام کی منصوص عبادتوں کے ساتھ بطور معاون تدبیر کے استعمال کیا جا سکتا ہو۔ مگر وہ بھول گئے کہ ایسا کر کے وہ خدا پرستی کے بجائے انسان پرستی کو اسلام میں داخل کر رہے ہیں۔ جب اللہ سے تعلق پیدا کرنے اور اس سے تقرب ڈھونڈنے کا علم ایک ایسا علم بن جائے جس کو صرف قرآن و سنت سے معلوم نہ کیا جا سکتا ہو تو لازماً ایسا ہوگا کہ وہ لوگ مرشد اور مرجع قرار پائیں جن کے متعلق یہ سمجھ لیا جائے کہ وہ "نفوس مزکاة " ہیں اور سینہ بہ سینہ اس پر اسرار علم کے وارث بنتے چلے آ رہے ہیں۔ مزید یہ کہ اس تدبیر کو اختیار کر کے ہمارے یہ بزرگ خدا کی " ممنوعہ چراگاہ " میں داخل ہو گئے ۔ کیوں کہ عبادتی امور میں کسی بھی قسم کا اضافہ مطلق طور پر ناجائز ہے۔ اسلام کی بعد کی تاریخ میں انحراف کی جو صورتیں پیدا ہوئیں ، ان میں دو چیزیں نہایت عجیب تھیں ۔ ایک ، معاملات کے باب میں اجتہاد کا دروازہ بند کرنا ۔ دوسرے ، عبادات کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page