Urdu book · تجدید دین

تصوف

Urdu book, p. 58

By Maulana Wahiduddin Khan

باب میں اجتہاد کا دروازہ کھولنا۔ حالانکہ شریعت کے حقیقی منشاء کے اعتبار سے معاملہ اس کے برعکس تھا۔ معاملات کے بارے میں صریح طور پر اجازت دی گئی تھی کہ نئے پیش آمدہ امور پر اسلام کی اصولی تعلیمات کی روشنی میں غور کر کے حکم لگایا جائے۔ ابتدائی دور کے فقہاء نے اسی پر عمل کرتے ہوئے اجتہادات کئے تھے۔ مگر بعد کے لوگوں کے لئے کہہ دیا گیا کہ: ان الاوائل لم يتر كو للاواخر شيئاً پچھلے لوگوں نے بعد والوں کے لئے کچھ نہیں چھوڑا حالانکہ کہ یہ دین میں حیرت انگیز حد تک ایک اندوہناک جسارت ہے۔ جب خدا کی کتاب اور رسول کی سنت کے باوجود دوسری صدی ہجری کے ائمہ فقہ کے لئے یہ گنجائش تھی کہ وہ اجتہاد کریں تو کیا ان ائمہ کے فتاویٰ خدا کی کتاب اور رسول کی سنت سے بھی زیادہ جامعیت کے حامل ہیں کہ ان کے بعد، خواہ حالات کتنے ہی بدل جائیں، کسی کو اجتہاد کی ضرورت نہ ہوگی۔ وہ لوگ جنھوں نے براہ راست پیغمبر کی صحبت سے اسلام سیکھا تھا، ان کے لئے یہ بات انتہائی طور پر اجنبی تھی کہ دین میں ’’بزرگی‘‘ کا ایک مستقل ادارہ وجود میں آجائے۔ لوگ دینی پیشوائی کی گدیوں پر اسی طرح بیٹھنا شروع کر دیں جس طرح بادشاہی نظام میں ایک کے بعد دوسرا تخت نشین ہوتا ہے۔ صحابہ کرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد، خدا کی کتاب اور رسول کی سنت کے سوا کسی چیز کو نہیں جانتے تھے جس سے رہنمائی حاصل کی جائے۔ وہ عمر فاروقؓ پر بھی اسی طرح تنقید کرتے تھے جیسے کسی عام انسان کے اوپر۔ ان کی بات کو جب وہ مانتے تھے تو شخصی عقیدت مندی کے تحت نہیں بلکہ اس وقت جب کہ انھوں نے اپنی بات کی صداقت ثابت کردی ہو۔ قاضی شریح کے سامنے جب خلیفہ چہارم علی بن ابی طالبؓ نے نصرانی کے خلاف زر ہ کا مقدمہ پیش کیا تو حضرت علیؓ کی طرف سے گواہی میں ان کے غلام قنبر اور ان کے لڑکے حسن تھے۔ قاضی شریح نے حضرت حسن کی ساری بزرگی کے باوجود ان کی گواہی نہیں مانی: فقال اترد شهادة الحسن وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page