Urdu book · تجدید دین

تصوف

Urdu book, p. 59

By Maulana Wahiduddin Khan

الحسن والحسين سيدا شباب اهل الجنة، قال لا ولكن حفظت عنك انه لا تجوز شهادة الولد علی والده (کنز العمال، جلد 4، صفحه 6) حضرت علی نے کہا کیا تم حسن کی گواہی کو رد کرتے ہو حالاں کہ رسول اللہ علیہ اللہ وسلم نے فرمایا کہ حسن اور حسین جنت کے نو جوانوں کے سردار ہیں۔ قاضی شریح نے کہا نہیں۔ کیوں کہ میں نے آپ ہی سے سن کر یاد کیا ہے کہ لڑکے کی گواہی باپ کی موافقت میں جائز نہیں۔ رجال کے سلسلہ میں ان کا تصور یہ تھا کہ اگر کوئی شخص کسی کی اقتدا کرنا چاہتا ہے تو اس کو مردوں کی اقتدا کرنی چاہئے۔ نہ یہ کہ کسی زندہ شخص کو اپنا ’’شیخ‘‘ بنا لیا جائے۔ کیوں کہ کوئی بھی شخص اس دنیا میں معصوم نہیں ہے۔ نبی کے سوا ہر زندہ شخص کے لئے یہ امکان ہے کہ وہ کسی وقت فتنہ میں پڑ جائے (من کان مستناً فليستن بمن قد مات فان الحي لا تؤمن عليه الفتنة) حضرت علی نے فرمایا: ایاکم والاستنان بالرجال، فإن الرجل يعمل بعمل اهل الجنة ثم ينقلب لعلم الله فيه فيعمل بعمل اهل النار فيموت وهو من اهل النار، وان الرجل ليعمل بعمل اهل النار فينقلب لعلم الله فيعمل بعمل اهل الجنة فيموت وهو من اهل الجنة فان كنتم لابد فاعلين فبالاموات لا بالاحياء۔ (ابن عبد البر، جامع بیان العلم، جلد 2، صفحه 114) رجال کی سنت پکڑنے سے بچو۔ اس لئے کہ آدمی جنت والوں کا عمل کرتا ہے، پھر اللہ کے علم کے مطابق پلٹ جاتا ہے اور آگ والوں کا عمل کرنے لگتا ہے۔ پھر اسی حال میں مر جاتا ہے اور وہ آگ والا ہوتا ہے۔ اور بے شک آدمی آگ والوں کا عمل کرتا ہے، پھر اللہ کے علم کے مطابق پلٹ جاتا ہے اور جنت والوں کا عمل کرنے لگتا ہے پھر اسی حال میں مر جاتا ہے اور جنت والوں میں سے ہوتا ہے۔ پس اگر تمہیں لوگوں کی اقتدا ہی کرنی ہے تو مرے ہوئے لوگوں کی اقتدا کرو نہ کہ زندہ لوگوں کی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page