کار تجدید
Urdu book, p. 6
By Maulana Wahiduddin Khan
آئی ہے اس کو ہم نے اوپر نقل کر دیا ہے۔ ان کو ملا کر دیکھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ’’تجدید‘‘ دراصل تبیین کے ہم معنی ہے۔ تجدید دین سے مراد ہے دین کو خالص صورت میں بیان کر دینا۔ چوں کہ اس دین کو قیامت تک کے لئے باقی رہنا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ اہتمام فرمایا کہ ہر صدی میں کم از کم ایک ایسا شخص پیدا ہوتا ہے جو لوگوں کے سامنے دین کو اس کی صحیح اور بے آمیز صورت میں بیان کر دے۔ وہ حق کو ناحق سے جدا کر دے تا کہ جس کو پانے کی طلب ہے وہ پالے۔ اور جس کو پانے کی طلب نہیں ہے اس کا غیر طالب ہونا ثابت ہو جائے۔ دین کا نام کبھی دنیا سے ختم نہیں ہوتا۔ جو چیز دنیا سے ختم ہوتی ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی سنت ہے۔ ایک روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: من تمسک بسنتی عند فساد امتی فلہ میری امت میں بگاڑ کے وقت جس نے میری سنت اجر مأئۃ شہید (الحدیث) کو پکڑا اس کے لئے سو شہیدوں کا ثواب ہے۔ اسلام کی راہ میں لڑ کر اپنی جان دے دینا ایک ایسا عمل ہے جس کا اللہ تعالیٰ کے یہاں بڑا انعام ہے۔ مگر بگاڑ کے زمانہ میں اپنے آپ کو سچے دین پر قائم کرنے کا اجر اس سے سو گنا زیادہ بتایا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اول الذکر اپنے آپ کو ایک دن قربان کرتا ہے۔ جب کہ ثانی الذکر کو ہر روز اپنے آپ کو قربان کرنا پڑتا ہے۔ امت کے اندر جب بگاڑ آتا ہے تو اس وقت یہ حال ہو جاتا ہے کہ ایک بگڑے ہوئے مذہب کا نام دین بن جاتا ہے۔ سارے دینی ادارے، تمام دینی اعزازات اسی بگڑے ہوئے مذہب سے وابستہ ہو جاتے ہیں۔ دین کے تمام شعبوں میں ایسے لوگ قبضہ پالیتے ہیں جو دین کو تجارت بنا چکے ہوتے ہیں۔ خواص اپنے مصالح کی بنا پر اور عوام اپنی جہالت کی بنا پر اسی بگڑے ہوئے دین کو مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ ایسی حالت میں جب کوئی بندہ خدا کے سچے اور بے آمیز دین کو لے کر اٹھتا ہے تو سارے لوگ محسوس کرتے ہیں کہ اس شخص کا دین ان کے اپنے دین کو بے اعتبار بنا رہا ہے۔ وہ فوراً اس کے مخالف بن جاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader