علمِ کلام
Urdu book, p. 60
By Maulana Wahiduddin Khan
علم کلام موجودہ علم کلام اسلام کے علمی ارتقاء میں زبردست رکاوٹ ثابت ہوا ہے۔ اسلامی علمِ کلام کی بنیاد حقائق فطرت پر ہے۔ مگر عباسی دور میں اسلامی علم کلام کو یونانی فلسفہ پر ڈھال دیا گیا۔ یہی انحراف ہے جس نے علمِ کلام کو، اس کی موجودہ شکل میں مفید عنصر کے بجائے مضر عنصر بنا دیا ہے۔ علم کلام اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے اسلامی دعوت و تعلیم کی ایک معاون شاخ ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ مخاطب جس اسلوب سے مانوس ہے اور جن اصطلاحوں میں بات کو سمجھنا چاہتا ہے، اسی اسلوب اور اسی اصطلاح میں اس کے سامنے خدا کے ابدی پیغام کو پہنچایا جائے۔ اس کی اسی اہمیت کی بنا پر امام غزالی (1111ء 1059ء) نے علماء کے تعلیمی نصاب میں خالص دینی موضوعات کے ساتھ مددگار علم کے طور پر معقولات کا جوڑ لگایا تھا، تاکہ اسلامی درسگاہوں سے ایسے لوگ تیار ہوں جو ایک طرف دین کا بخوبی علم رکھتے ہوں، دوسری طرف وقت کے علمی معیار پر اسلام کی نمائندگی کر سکیں۔ مگر علم کلام، عین اپنی نوعیت کے اعتبار سے، ایک زمانی علم ہے۔ وہ اسلام کی دائمی حقیقت کو زمانی اصطلاحوں میں بیان کرتا ہے۔ اس لیے اس کی اہمیت اس وقت خود بخود ختم ہو جاتی ہے جب کہ وہ زمانہ ختم ہو جائے جس کے اندر وہ وجود میں آیا تھا۔ مگر یہاں بھی اسی انسانی کمزوری نے کام کیا جس کے اثرات ہمیں دوسری چیزوں میں نظر آتے ہیں۔ وہ یہ کہ کوئی چیز جب ایک بار وجود میں آجائے اور اس کے ساتھ کچھ قابلِ احترام شخصیتوں کے نام وابستہ ہو جائیں تو دھیرے دھیرے وہ مقدس بننا شروع ہو جاتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ وقت آتا ہے جب کہ اس میں ترمیم و اصلاح کی بات سوچنا بھی لوگوں کو ایسا لگتا ہے جیسے وہ گناہ ہو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader