Urdu book · تجدید دین

علمِ کلام

Urdu book, p. 61

By Maulana Wahiduddin Khan

یہی حال اسلام کے اس کلامی لٹریچر کا ہوا جو عباسی دور میں پیدا ہوا تھا۔ یہ علمِ کلام اس وقت اتنا مؤثر ثابت ہوا کہ جو علوم اسلام کے لیے چیلنج بن کر ظاہر ہوئے تھے وہ خود اسلام کے خادم بن گئے۔ مگر زمانہ کی تبدیلی نے اب ان کی اہمیت قطعی طور پر ختم کر دی ہے۔ آج ”معقولات‘‘ کے نام سے جو چیز ہمارے دارالعلوموں میں پڑھائی جاتی ہے اس کو نا معقولات کہنا زیادہ صحیح ہوگا۔ اس کی بنیاد ایسے عقلی قیاسات پر قائم ہے جو آج مشاہدہ اور تجربہ کے ذریعہ غلط ثابت ہو چکے ہیں۔ جو چیز محض ایک وقتی تدبیر کی حیثیت رکھتی تھی، اس کو بعد کے لوگوں نے دینی نصاب کا مستقل جز ء بنا لیا۔ اس طرح اگر چہ اسلام کا نظامِ تعلیم ٹھیک اسی غلطی کا شکار ہو گیا جس کا شکار عیسائیوں نے اپنی کتاب مقدس کو بنایا تھا۔ یہی وہ صورتِ حال ہے جس نے اسلام کے اس امکان کو بروئے کار آنے نہیں دیا کہ وہ موجودہ زمانہ میں ایک برتر فکری قوت کی حیثیت سے ظاہر ہو سکے۔ ہمارے دینی مدارس نہایت اخلاص کے ساتھ ایسے انسان تیار کرنے میں مصروف ہیں جو صرف پانچ سو برس پہلے کی دنیا میں کام کر سکتے تھے۔ ظاہر ہے کہ ایسے لوگ موجودہ بدلے ہوئے زمانہ میں اسلام کا فکری اظہار نہیں کر سکتے۔ وہ اپنے ذہن و مزاج کی وجہ سے صرف یہی کر سکتے ہیں کہ اسلام دورِ سائنس سے قبل کی چیز ہے، وہ آج کے انسان کے لیے نہیں۔ موجودہ زمانہ میں اٹھنے والی بعض تحریکوں نے اس خلا کو پُر کرنے کی کوشش کی۔ مثال کے طور پر وہ تحریکیں جنھوں نے اسلام کی تعلیمات کو سیاسی اصطلاحوں میں بیان کیا۔ ان تحریکوں سے وقتی فائدے بھی ہوئے ۔ مگر بدقسمتی سے ان تحریکوں میں آغاز ہی سے ایک خرابی شامل ہو گئی۔ یہ تحریکیں باعتبارِ حقیقت متکلمانہ تحریکیں تھیں جو انیسویں صدی کے مغربی افکار کے ہنگامہ میں اس لئے اٹھیں کہ اسلام کو لوگوں کے لئے قابلِ قبول بنائیں۔ مگر ان کے پر جوش داعیوں نے صرف اس پر اکتفا نہیں کیا کہ وہ اسلام کو سیاسی زبان میں بیان کرتے بلکہ انھوں نے تفسیر اور سیرت بھی اسی نہج پر مرتب کر ڈالی۔ حتی کہ یہ اعلان بھی کر دیا کہ مختلف زمانوں میں جو انبیاء آئے وہ اسی لئے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page