علمِ کلام
Urdu book, p. 62
By Maulana Wahiduddin Khan
آے تھے کہ دنیا میں خدا کی سیاسی حکومت قائم کریں۔ اس طرح انھوں نے اپنے کلامی لٹریچر کو دین کی تشریح کا عنوان دے دیا۔ یہ نہ صرف دین میں ایک جسارت تھی بلکہ اس کے ذریعہ سے انھوں نے اپنے پیرووں کو دوبارہ اسی جمود میں مبتلا کر دیا جس میں ہمارے قدیم دینی ادارے مبتلا چلے آ رہے تھے۔ انیسویں صدی کا سیاسی انداز فکر، جس میں یہ لٹریچر پیدا ہوا تھا، دوسری جنگ عظیم کے ساتھ ختم ہو گیا۔ اب ضرورت تھی کہ نئے ذہنی تقاضوں کی روشنی میں دوسرا کلامی لٹریچر تیار کیا جائے۔ مگر یہ گروہ آج بھی بے سود طور پر سیاسی لٹریچر کی تلاوت میں مصروف ہے، جس طرح عربی مدارس یونانی معقولات کے درس و تدریس میں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ اپنے اس لٹریچر کو دین کی مطلق تشریح سمجھ رہا ہے نہ کہ محض وقتی طور پر پیدا شدہ علم کلام۔ صلیبی جنگوں کے زمانہ میں شام ومصر میں ہتھیار تیار کرنے کی جو بھٹیاں بنائی گئی تھیں، آج ان کا کہیں وجود نہیں ہے۔ کیونکہ وقت گزرنے کے بعد ان کی اہمیت ختم ہوگئی۔ اسی طرح قدیم معقولات کو بھی اسلام کی علمی فہرست سے خارج ہو جانا چاہئے تھا۔ جو چیز وقتی ضرورت کے تحت آتی ہے، وہ وقت ختم ہونے کے بعد خود بخود چلی جاتی ہے۔ مگر قدیم معقولات سے ہم ابھی تک نجات حاصل نہ کر سکے۔ اس کی وجہ قدیم معقولات کا ہماری فنون کی کتابوں میں شامل ہو جانا ہے۔ جس زمانہ میں یہ اجنبی علوم اسلام کے معاشرہ میں داخل ہوئے، یہ وہی زمانہ تھا جب کہ اسلامی علوم کی تدوین ہورہی تھی۔ قدیم منطقی انداز لوگوں کے لئے اتنا مسحور کن ثابت ہوا کہ انھوں نے سمجھا کہ اسلامی علوم کی تدوین کے لئے بھی یہی انداز سب سے زیادہ موزوں ہے ۔ چنانچہ اسلامی فنون کی کتابیں قدیم منطقی انداز میں لکھی جانے لگیں۔ اس واقعہ نے قدیم منطق کو اسلامی کتب خانہ کا لازمی جزء بنا دیا۔ کسی بھی عالم کو بآسانی اس رائے سے متفق کیا جاسکتا ہے کہ قدیم معقولات کو مدارس دینیہ کے نصاب سے خارج کر دیا جائے۔ مگر مشکل یہ ہے کہ فوراً ہی یہ سوال پیدا ہو جاتا ہے کہ ہماری کتب فنون کو سمجھنے والے لوگ کیسے تیار ہوسکیں گے۔ قدیم معقولات کو دنیا سے مٹا دیا جائے تو قرآن

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader