علمِ کلام
Urdu book, p. 63
By Maulana Wahiduddin Khan
حدیث کو سمجھنے میں کسی کو زحمت نہ ہوگی۔ کیونکہ قرآن وحدیث کی ترتیب قدیم منطق کی اصطلاحات میں کی ہی نہیں گئی ہے۔ مگر علم عقائد اور اصول فقہ کی بنیادی کتابوں کو کوئی شخص بخوبی طور پر سمجھ نہیں سکتا جب تک قدیم منطقی اصطلاحات سے اس کو آگاہی نہ ہو۔ یونانی معقولات، جس کو اب خود یونان بھی چھوڑ چکا ہے، دین کے ساتھ جوڑنے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ دین میں تدبر اور دینی مسائل کو بیان کرنے کا ایک ایسا نہج بن گیا جو رسول اللہ کی سنت اور صحابہ کرام کے انداز سے بالکل مختلف تھا۔ حنفیہ نے امام کے پیچھے فاتحہ کی قرأت کے ترک کا فتویٰ دیا ہے۔ مولانا رشید احمد گنگوہی کے سامنے اس مسلک کے خلاف یہ حدیث پیش کی گئی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ اصحاب سے کہا، شاید تم لوگ امام کے پیچھے نماز پڑھتے ہوئے قرأت کرتے ہو۔ انھوں نے کہا ہاں یا رسول اللہ۔ آپ نے فرمایا: لا تفعلوا الا بام القرآن نہ پڑھو سوارسورہ فاتحہ کے مولانا رشید احمد گنگوہی نے حنفی مسلک پر اس اعتراض کو رد کرتے ہوئے جواب دیا: هـذا دليل الاباحة لا دليل الوجوب (نفحۃ العنبر ) یہ اباحت کی دلیل ہے نہ کہ وجوب کی دلیل یہ ایک سادہ سی مثال ہے اس بات کی کہ بعد کے زمانے میں ہمارے یہاں مذہبی بحث گفتگو کا جو انداز پیدا ہوا، وہ کس طرح اسلام کے ابتدائی سادہ اسلوب سے ہٹا ہوا تھا۔ چنانچہ وہی شخص آج ’’عالم‘‘ سمجھا جاتا ہے جو اس قسم کی فنی زبان اور منطقی اسلوب میں دینی مسائل کو بیان کرسکتا ہو۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دینی مباحث کا یہ انداز فنی حیثیت سے بظاہر بڑا دقیق معلوم ہوتا ہے، مگر اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ دین وہ نہیں جس کو عرب کے پیغمبر ہمارے لئے چھوڑ کر گئے تھے۔ آپ نے فخر کے ساتھ فرمایا تھا: نحن امۃ امی (ہم تو سیدھی سادی امت ہیں) بعثتُ بالحنیفیة السمحة، (میں سہل دین کے ساتھ بھیجا گیا ہوں) مگر یہودیوں اور عیسائیوں کے اتباع میں ہم نے دین کو ایک پیچیدہ فن بنا ڈالا جس طرح انھوں نے موسیٰ اور عیسیٰ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader