Urdu book · تجدید دین

علمِ کلام

Urdu book, p. 64

By Maulana Wahiduddin Khan

کے دین کو فن بنا دیا تھا۔ اس ’’فنی دین‘‘ کا غیر دینی ہونا اسی سے واضح ہے کہ صحابہ کرام میں سے کوئی بزرگ اگر آج زندہ ہوں تو وہ ہمارے مدارس عربیہ میں سے کسی مدرسہ میں ’’شیخ الحدیث‘‘ کے منصب پر فائز نہیں کئے جاسکتے۔ کیونکہ آج ان مدارس میں علم حدیث جس طرح پڑھایا جاتا ہے وہ اس کے لئے بالکل ناموزوں ثابت ہوں گے۔ حتیٰ کہ نعوذ باللہ شاید خود اللہ کے رسول بھی۔ خالص علمی اعتبار سے بھی بحث کا یہ طریقہ موجودہ زمانہ میں بے وزن ہو چکا ہے۔ قدیم منطق کی بنیاد ذہنی قیاس آرائیوں پر قائم تھی۔ مگر موجودہ زمانہ میں منطق کی بنیاد سائنس ہے جو حقیقی حوالوں اور واقعاتی تجزیہ سے کسی بات کو ثابت کرتی ہے۔ مگر مدارس دینیہ میں جو کتابیں پڑھائی جاتی ہیں، وہ چونکہ قدیم منطقی اسلوب پر لکھی گئی ہیں، اور اساتذہ اپنے درسوں میں اسی اسلوب پر مسائل کی تشریح کرتے ہیں، اس لئے ان اداروں سے جو افراد تربیت پا کر نکلتے ہیں، وہ اپنے طرز فکر اور انداز استدلال کے اعتبار سے موجودہ زمانہ کے لئے اجنبی ہوتے ہیں۔ وہ ’’منطقی اسلحہ‘‘ سے لیس ہونے کے باوجود آج کے انسان کو علمی اور منطقی طور پر اپنا دین سمجھانے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ آج کی دنیا میں جب وہ داخل ہوتے ہیں تو وہ احساس کمتری کا شکار ہو کر رہ جاتے ہیں یا جرات کر کے اسلام کے داعی بننے کی کوشش کرتے ہیں تو ان کی اسلامی تشریحات آج کے علمی انسان کو یہ غلط تاثر دیتی ہیں کہ اسلام صرف قدیم دور کے انسان کو مطمئن کر سکتا تھا، آج کے انسان کے ذہنی اطمینان کے لئے اس کے پاس کچھ نہیں۔ قرآن میں کہا گیا ہے کہ اللہ تدبیر امر کر رہا ہے اور تفصیل آیات بھی (رعد ۔ 2)۔ تدبیر امر سے مراد کائناتی انتظام ہے جس کے خارجی پہلوؤں کے علم کا نام سائنس ہے۔ تفصیل آیات سے مراد وحی ہے جس کا آخری اور مکمل متن قرآن کی صورت میں ہمارے پاس محفوظ ہے۔ علم کلام اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے یہ ہے کہ الہامی علم اور کائناتی علم کی وحدت کو سمجھا جائے، نامعلوم کائنات کو معلوم کائنات کی مدد سے قابل فہم بنایا جائے۔ اس حیثیت سے دیکھیے تو اسلامی علم کلام کا کوئی قدیم وجدید نہیں۔ یہ متکلمین اسلام کی ایک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page