علمِ کلام
Urdu book, p. 65
By Maulana Wahiduddin Khan
غلطی تھی جس نے علم کلام میں قدیم وجدید کی تقسیم پیدا کی۔ علم کلام حقیقتِ قرآنی عقلیات کو مرتب کرنے کا نام تھا۔ مگر عباسی دور کے متکلمین نے اس کو انسان کی وضع کردہ فلسفیانہ عقلیات پر ڈھالنے کے ہم معنی سمجھ لیا۔ یہی وہ غلطی ہے جس نے علم کلام میں قدیم وجدید کے تصورات پیدا کیے۔ کیونکہ فلسفیانہ عقلیات قیاسی ہونے کی وجہ سے تغیر پذیر تھیں، جبکہ قرآنی یا کائناتِی عقلیات میں تغیر وتبدل کا کوئی سوال نہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ قرآن کا طریق استدلال تمام تر کائناتِی ہے۔ وہ محسوس واقعات کے ذریعہ غیر محسوس حقائق پر استدلال کرتا ہے۔ قرآنی علم کلام کی بنیاد زمین و آسمان کے ان قوانین پر ہے جو اٹل ہیں، جن میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔ اس لئے قرآنی علم کلام بھی اٹل ہے، اس میں تبدیلی کا کوئی سوال نہیں۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ قرآنی علم کلام بھی، قرآنی اعتقدیات کی طرح، غیر تغییر پذیر ہے۔ مگر جب علم کلام کو انسان کے پیدا کردہ علوم کی بنیاد پر مرتب کیا گیا تو فی الفور علم کلام میں قدیم وجدید کا مسئلہ پیدا ہوگیا، کیونکہ یہ علوم تمام تر قیاس کی بنیاد پر تھے، وہ کبھی یکساں نہیں رہ سکتے۔ بیسویں صدی کے نصف آخر میں، اگر کلی طور پر نہیں تو ایک خاص حد تک، ہم اس پوزیشن میں ہو گئے ہیں کہ علم کلام کو اس کی قطعی اور آفاقی شکل میں مرتب کر سکیں۔ قدیم زمانہ میں عالم افلاک اور علم افلاک دونوں الگ الگ چیزیں تھیں۔ عالم افلاک حقائق پر مبنی تھا اور علم افلاک قیاسات پر۔ آج یہ دونوں چیزیں ایک ہوتی جارہی ہیں۔ یہی معاملہ قرآن کا ہے۔ قدیم زمانہ میں قرآن اور علم کلام دونوں الگ الگ تھے۔ قرآن آیات محکمات پر مبنی تھا اور علم کلام فلاسفہ کے قیاسات پر۔ اگر کوئی چیز ہے جس کو ’’علم کلام جدید‘‘ کہا جائے تو وہ یہی علم کلام ہے جس کو مرتب کیا جانا چاہیے، اگرچہ وہ ابھی تک مرتب نہیں کیا گیا ہے۔ یہاں میں مختصر طور پر چند کاموں کا ذکر کروں گا جو علم کلام کی جدید تر ترتیب و تدوین کے سلسلے میں ہم کو انجام دینا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader