Urdu book · تجدید دین

علمِ کلام

Urdu book, p. 66

By Maulana Wahiduddin Khan

1۔ سب سے پہلا کام قرآن کی بنیاد پر ایک نظریہ علم کو مرتب کرنا ہے۔ یعنی طریق استدلال کا علم۔ قدیم زمانہ میں قیاسی مفروضات و مسلمات پر استدلال کیا جاتا تھا۔ تحقیق و تجربہ کے جدید طریقوں کے ظہور میں آنے کے ابتدائی زمانہ میں مشاہداتی استدلال پر زور دیا گیا۔ مگر آئن سٹائن کے بعد علم انسانی کا جو دور شروع ہوا ہے، اس میں زیادہ سے زیادہ یہ بات واضح ہوتی جارہی ہے کہ حقیقت اپنی آخری صورت میں انسان کے لئے ناقابل مشاہدہ ہے۔ اب یہ بات تقریباً مان لی گئی ہے کہ انسان کی محدود صلاحیتوں کی وجہ سے، مشاہداتی استدلال اس کے لئے ممکن نہیں۔ ہم صرف اس پوزیشن میں ہیں کہ استنباطی استدلال قائم کرسکیں۔ ہم حقائق کو دیکھ نہیں سکتے، ہم صرف یہ کرسکتے ہیں کہ ظاہر اشیاء پر غور کرکے یہ مستنبط کریں کہ یہاں فلاں چیز پائی جانی چاہئے۔ اب موجودہ زمانہ میں ایک نیا نظریہ علم وجود میں آیا ہے جو حیرت انگیز طور پر قرآنی نظریہ علم کے عین مطابق ہے۔ قرآن میں کہا گیا تھا کہ انسان کو علم قلیل (بنی اسرائیل۔ 85) دیا گیا ہے۔ اس لئے اس کو بالواسطہ علم پر قناعت کرنا چاہئے نہ کہ براہ راست علم کے لئے اصرار کرنے لگے۔ اس طرح وحی اور علم انسانی دونوں ایک نقطہ پر پہنچ گئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جدید نظریہ علم نے قرآنی طرز استدلال کو، جدید اصطلاح میں، عین سائنٹفک استدلال کا درجہ دے دیا ہے۔ موجودہ زمانہ میں علم کلام کا سب سے پہلا کام یہ ہے کہ وہ اس اہم ترین دریافت کو مدوّن کرے ۔ 2۔ دوسرا کام قرآنی علم الآثار کی تدوین ہے۔ قرآن میں پچھلے انبیاء اور گزری ہوئی تہذیبوں کا ذکر ہے۔ یہ قرآن کا وہ حصہ ہے جس کو ایام اللہ (ابراہیم: 5) کہا گیا ہے۔ تاریخ انسانی کے یہ واقعات قرآن کے نقطہ نظر سے بے حداہم ہیں۔ وہ ثابت کرتے ہیں کہ اس کائنات کا ایک خدا ہے، وہ ہر دور میں اپنا نمائندہ بھیجتا ہے اور اپنے اٹل قوانین کی بنیاد پر قوموں کی قسمت کا فیصلہ کرتا ہے۔ یہ اگرچہ تاریخ کا مضمون ہے۔ مگر قرآن میں اس کا ذکر معروف تاریخی انداز میں نہیں ہے۔ بلکہ دعوتی اور اجمالی انداز میں ہے۔ ان واقعات کے بارے میں قرآن سے باہر جو ریکارڈ ہے، وہ قدیم زمانے میں بڑی حد تک لامعلوم تھا۔ اس لئے قدیم زمانہ میں قرآن کے ان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page