Urdu book · تجدید دین

علمِ کلام

Urdu book, p. 67

By Maulana Wahiduddin Khan

اجزاء کی تدوین خالص تاریخی انداز میں ممکن نہ تھی۔ اب ان واقعات سے متعلق بے شمار دبے ہوئے ریکارڈ دریافت ہو گئے ہیں۔ اس طرح اب یہ ممکن ہو گیا ہے کہ ایام اللہ کے بارے میں قرآنی حوالوں کو منضبط کیا جائے ، قرآن کی دعوت کو تاریخ کی زبان میں مدوّن کر دیا جائے۔ 3۔ تیسرا کام آیات آفاق (حم سجدہ۔ 53) کو جدید دریافت کی مدد سے ترتیب دینا ہے۔ قرآن کے مطابق کائنات میں بے شمار نشانیاں ہیں جو اپنے خالق کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ اور اس حکمت کو بتاتی ہیں جس کے تحت یہ کارخانہ بنایا گیا ہے۔ قرآن میں بار بار ان نشانیوں کے حوالے دیئے گئے ہیں اور ان سے قرآن کی دعوت کو مدلل کیا گیا ہے۔ تا ہم یہ حوالے اشاراتی زبان میں ہیں۔ قدیم زمانہ میں ایسی معلومات حاصل نہ تھیں جن سے ان اشارات کو تفصیلی انداز میں سمجھا جا سکے۔ اب سائنس کے ارتقاء نے یہ مواد، بڑی حد تک، جمع کر دیا ہے۔ شاید یہ کہنا مبالغہ نہ ہو کہ سائنس موجودہ زمانہ میں اسلام کی تھیالوجی بن چکی ہے۔ تاہم اس کو مدون کرنے کا کام ابھی باقی ہے۔ ضرورت ہے کہ خدا کی یہ نشانیاں، جو طبیعی دنیا میں چھپی ہوئی ہیں۔ جدید دریافتوں کی مدد سے ان کو مفصل شکل میں مرتب کیا جائے۔ 4۔ قرآن کے استدلالی حصہ کا ایک پہلو وہ ہے جس کو آیات انفس (حم سجدہ: 53) کہا گیا ہے۔ یعنی نفسیات انسانی کے اندر خدا کی نشانیاں۔۔ یہ جزء بھی قدیم زمانہ میں بڑی حد تک مخفی تھا۔ صوفیاء نے اس پہلو سے بہت کچھ لکھا ہے۔ مگر وہ علمی حقائق سے زیادہ قیاسات پر مبنی ہے اور اس کا بڑا حصہ موجودہ زمانے میں بے قیمت ہو چکا ہے۔ تا ہم علم النفس کی تحقیقات نے موجودہ زمانے میں بہت سی ایسی معلومات فراہم کر دی ہیں جن کی روشنی میں قرآن کے اشارات کو، اگر پوری طرح نہیں تو بڑی حد تک ، مفصل کیا جا سکتا ہے۔ یہ کام اگر علمی سطح پر ہو جائے تو وہ قرآنی نظریات کے حق میں ایک عظیم نفسیاتی تصدیق ثابت ہوگا۔ 5۔ آخر میں میں ایک ایسے علمی کام کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جو رواجا علم کلام میں شمار نہیں کیا جاتا۔ حالاں کہ مقاصد کے اعتبار سے اس کو علم کلام کا سب سے اہم جزء ہونا چاہیے ۔ یہ ہے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page