علمِ کلام
Urdu book, p. 68
By Maulana Wahiduddin Khan
سائنٹفک انداز میں اسلام پر تعارفی لٹریچر تیار کرنا۔ موجودہ زمانہ میں اسلام پر بے شمار کتابیں لکھی گئی ہیں۔ مگر تقریباً تمام کتابوں پر، کسی نہ کسی طرح، کلامی انداز غالب رہا ہے۔ تفسیر، سیرت، عام اسلامی لٹریچر کا جو ذخیرہ موجودہ زمانہ میں تیار ہوا ہے، تقریباً یہ سب کا سب، علم کلام کے خانہ میں رکھا جا سکتا ہے۔ اس سے قطع نظر کہ ان کتابوں کی علمی قدر و قیمت کیا ہے، خود یہ بات عصری تقاضے کے خلاف ہے کہ تفسیر اور سیرت کو علم کلام بنا دیا جائے۔ موجودہ زمانہ آزادی فکر کا زمانہ ہے۔ آج کا انسان یہ چاہتا ہے کہ اصل بات، کسی تعبیری یا کلامی اضافہ کے بغیر، اس کے سامنے رکھ دی جائے، اور جانچنے پرکھنے کا معاملہ خود قاری کے اوپر چھوڑ دیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ کتابوں کے ہجوم کے باوجود ساری دنیا میں نئی اسلامی کتابوں کی مانگ ہے۔ آج کا انسان اسلام کو سمجھنا چاہتا ہے۔ مگر ایسی کتابوں کے ذریعہ جن میں اسلام کو اس اسلوب میں پیش کیا گیا ہو جس کو موجودہ زمانہ میں سائنٹفک اسلوب کہا جاتا ہے۔ آج کا انسان عقلیاتی اسلوب سے زیادہ سائنٹفک اسلوب کا دلدادہ ہے۔ مگر بدقسمتی سے کسی بھی اسلامی زبان میں اب تک سائنٹفک اسلوب رواج نہ پا سکا۔ سائنٹفک اسلوب سے مراد معروف کلامی اسلوب نہیں ہے۔ بلکہ ایسا سادہ اور مثبت اسلوب ہے جس میں زبان و بیان دونوں اعتبار سے حقیقت نگاری کو ملحوظ رکھا گیا ہو۔ موجودہ زمانہ میں ہمارے لکھنے والوں نے بے شمار کتابیں اسلام پر لکھی ہیں۔ مگر میرے علم کی حد تک کسی بھی زبان میں کوئی ایسا تعارفی سٹ تیار نہیں ہوا ہے جس میں سادہ، مثبت اور حقیقت پسندانہ انداز میں اسلام کی تعلیمات اور پیغمبر اسلام کی سیرت کو مرتب کیا گیا ہو، حالانکہ آج سب سے زیادہ ضرورت اسی قسم کی کتابوں کی ہے۔ میں یہ کہنے کی جرات کروں گا کہ اگر ہم کچھ اور نہ کریں، صرف اتنا کریں کہ تعلیمات قرآن، سیرت، حدیث، حالات صحابہ اور تاریخ اسلام ( نہ کہ تاریخ فتوحات ) پر خالص علمی اسلوب اور حقیقت نگاری کی زبان میں کتابوں کا ایک سٹ تیار کر دیں اور اس کو تمام زبانوں میں چھاپ دیں تو ہم علم کلام کے مقصد کو، کم از کم آج کی دنیا میں، زیادہ بہتر طور پر حاصل کر سکیں گے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader